حمد و مناجات — Page 29
29 2 - پر میرے مولا مری بگڑی کے بنانے والے میرے پیارے مجھے فتنوں سے بچانے والے جلوہ دکھلا مجھے او چہرہ چھپانے والے! رحم کر مُجھ پر، او منہ پھیر کے جانے والے! میں تو بدنام ہوں جس دم سے ہوا ہوں عاشق کہہ لیں جو دل میں ہو الزام لگانے والے تشنہ لب ہوں بڑی مدت سے خدا شاہد ہے بھر دے اک جام تو کوثر کے لگانے والے ڈالتا جا نظر مہر بھی اس غمگیں نظر قہر سے مٹی میں ملانے والے کبھی تو جلوہ بے پردہ سے ٹھنڈک پہنچا سینہ و دل میں مرے آگ لگانے والے مجھ کو تیری ہی قسم کیا یہ وفا داری ہے دوستی کر کے مجھے دل سے کھلانے والے کیا نہیں آنکھوں میں کچھ بھی کروٹ باقی مجھ مصیبت زدہ کو آنکھیں دکھانے والے ڈھونڈتی ہیں مگر آنکھیں نہیں پاتیں اُن کو ہیں کہاں وہ مجھے روتے کو ہنسانے والے ساتھ ہی چھوڑ دیا سب نے شب ظلمت میں ایک آنسو ہیں لگی دِل کی بجھانے والے تا قیامت رہے جاری یہ سخاوت تیری او مرے گنج معارف کے لگانے والے رہ گئے منہ ہی تیرا دیکھتے وقت رحلت ہم پسینہ کی جگہ خون بہانے والے ہو نہ مجھ کو بھی خوشی دونوں جہانوں میں نصیب کوچہ یار کے رستہ کے پھلانے والے ہم تو ہیں صبح و مسا رنج اُٹھانے والے کوئی ہونگے کہ جو ہیں عیش منانے والے مجھ سے بڑھ کر ہے مرا فکر تجھے دامن گیر تیرے قُربان مرا بوجھ اُٹھانے والے 3 ( کلام محمود ) خدا سے چاہیے ہے کو لگانی کہ سب فانی ہیں پر وہ غیر فانی