حمد و مناجات — Page 160
160 محترمہ امۃ الرشید بدر صاحبه ہیں حمد سبھی کرتے یاں ارض وسما تیری توفیق ملے یارب کریں ہم بھی ثنا تیری محتاج ترے ہر دم ہر سانس تترا احساس ہر جاں کی بقا پر ہے رحمت کی ردا تیری ہیں حُسن ترے بکھرے ہر وادی و گلشن میں پھولوں میں مہک تیری تاروں میں ضیا تیری ہو موسم گل یا کہ ہو زردی خزاؤں کی ہر رنگ نرالا ہے ہر پیاری ادا تیری یہ قوسِ قزح کے رنگ دکھلائیں تری شوخی ہے رعد ہنسی تیری رفتار ہوا تیری ہر نقص سے بالا ہے تو ارفع و اعلیٰ ہے بالا ہے مکاں سے تو پر دل میں ہے جا تیری گر ایک قدم چل کے کوئی آئے تجھے ملنے۔تو سو قدم آتا ہے لاثانی وفا تیری 2 (مصباح اکتوبر 1996ء) یہ مہر و ماہ اس کے ستارے اسی کے ہیں یہ جھلملاتے نور کے دھارے اسی کے ہیں پھولوں میں حسن ، تازگی ، خوشبو اسی کی ہے قوس قزح میں رنگ یہ سارے اُسی کے ہیں کھینچی ہے اسکے ہاتھ نے تصویر کائنات چاروں طرف حسین نظارے اسی کے ہیں آبادیوں کو اس نے ہی بخشا ہے حسن زیست گلیاں ،نگر، یہ محن، چوبارے، اُسی کے ہیں ہر آن اپنے ڈھنگ بدلتا رہے ہے دل اس میں یہ سارے عکس اتارے اسی کے ہیں باقی ہے وہ، قیوم ہے اور لازوال ہر شے میں نیستی کے اشارے اسی کے ہیں ہر مضطرب کی حاجت روائی وہی کرے لاچار بے بسوں کو سہارے اسی کے ہیں (الفضل 16 جنوری 2004ء)