حمد و مناجات — Page 159
159 2 اتنا کرم ہو یا رب جب جان تن سے نکلے اس دم میری زباں سے تیرا نام من سے نکلے کوئی کٹھن گھڑی جو اس وقت مجھ یہ آئے کر دینا اس کو آساں جب جان تن سے نکلے کر دینا مجھ پہ یارب روح القدس کی چھاؤں جب سانس لب پہ آئے اور جان تن سے نکلے پہنچانا ان لبوں تک اک جامِ آب کوثر لب سوکھ جائیں جس دم اور جان تن سے نکلے سب اس جہاں کے رشتے جب ساتھ چھوڑ دیں گے ہوں ساتھ پاک روحیں جب جان تن سے نکلے آنکھوں کی پتلیاں جب بے نور ہوں بالآخر دیدار ہو نبی کا جب جان تن سے نکلے چلنے لگیں یکا یک فردوس کی ہوائیں رک جائے بادِ صر صر جب جان تن سے نکلے امید ہے یہ مجھ کو بس تیری رحمتوں سے اولاد متقی ہو جب جان تن سے نکلے ہونٹوں پہ میرے اس دم دیدار کی خوشی میں ہلکی سی اک ہنسی ہو جب جان تن سے نکلے