حمد و مناجات — Page 147
147 جناب محمد ہادی صاحب کہیں بھی فضا ایسی پائی نہیں ہے جہاں تیری قدرت نمائی ہے زمیں سے فلک تک، فلک سے بھی آگے سوائے خدا کی ، خدائی نہیں ہے تیرے جیسا جلوہ اُجاگر نہیں ہے تیرے جیسی صورت سمائی نہیں ہے تو اطراف عالم میں پھیلا ہوا ہے جہاں تک کسی کی رسائی نہیں ہے تو خالق اشیائے ادنیٰ و اعلیٰ کوئی چیز کم تر بنائی نہیں ہے تو ازلی و ابدی یکتا خُدا ہے ہمیں اس سے نا آشنائی نہیں ہے تو معبود ہے تیری درگاہ سے ہٹ کر جیں ہم نے اپنی جھکائی نہیں تو زندہ تھا زندہ ہے زندہ رہے گا تیری زندگی انتہائی نہیں ہے منزہ ہے ہر عیب سے تو۔نظر نے کبھی ایسی ہستی دکھائی نہیں ہے تیرے با لمقابل جو آیا تو اُس نے کوئی تیری خوبی مٹائی نہیں ہے اُسے کیا خبر ہو کہ تُو بولتا ہے کہ جس نے یہ بات آزمائی نہیں ہے ہے تو جامع ہے دُنیا کی سب طاقتوں کا کوئی اور طاقت یوں چھائی نہیں ہے ہادی نگاہ کرم اس طرف بھی ورنہ مشکل کشائی نہیں ہے (مصباح)