حمد و مناجات — Page 125
125 جناب ضیاء اللہ مبشر صاحب وو ہوا دست محبت کا اشارا ہم کو ” مولی بس فرشتوں نے فلک سے ہے پکارا ہم کو ” مولی بس عدد نے پھینک ڈالا تھا ہمیں بحر مصائب میں ملا الفت کی لہروں میں کنارا ہم کو مولی بس سفینہ جب کبھی اپنا گھرا طوفان ظلمت میں اسی کو ناخدا ہم نے پکارا ہم کو مولی بس سنو اے غیر کی شہ پر عداوت میں فنا لوگو! مبارک تم کو غیروں کا سہارا ہم کو مولی بس ہمیں بے شک بناؤ تم ہدف جوروستم کا ہی نہ چھینو بس خدا ہم سے خدارا ہم کو مولی بس اسی کی راہ میں ہر شے لٹانا، دین ہے اپنا که مال و جان و عزت سے ہے پیارا ہم کو مولا بس ہمیں تاریک رستوں نے ضیاء منزل عطا کی ہے ظلمت میں روشن تر ستارا ہم کو مولی بس ره ہمارا نور یزدانی بجھا پاؤ، بجھا دیکھو تمہی پر مکر الٹے گا تمہارا ہم کو مولی بس ( الفضل 21 اگست 2004 ء)