ہماری تعلیم — Page 26
میں پیشگوئیاں ہیں اور اکثر ان میں سے محدثین کے نزدیک مجروح یا موضوع یا ضعیف ہیں پس اگر کوئی حدیث اُن میں سے پوری ہو جائے اور تم یہ کہہ کر ٹال دو کہ ہم اس کو نہیں مانتے کیونکہ یہ حدیث ضعیف ہے یا کوئی راوی اس کا متدین نہیں ہے تو اس صورت میں تمہاری خود بے ایمانی ہوگی کہ ایسی حدیث کو رد کر دو جس کا سچا ہونا خدا نے ظاہر کر دیا۔خیال کرو کہ اگر ایسی حدیث ہزار ہو اور محدثین کے نزدیک ضعیف ار پیشگوئی اس کی سچی نکلے تو کیا تم ان حدیثوں کو ضعیف قرار دے کر اسلام کے ہزار ثبوت کو ضائع کر دو گے پس اس صورت میں تم اسلام کے دشمن ٹھہر وگے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ پس سچی پیشگوئی بجز سچے رسول کے کس کی طرف منسوب ہو سکتی ہے کیا ایسے موقعہ پر یہ کہنا مناسب حالت ایمانداری نہیں ہے کہ صحیح حدیث کو ضعیف کہنے میں کسی محدث نے غلطی کھائی اور یا یہ کہنا مناسب ہے کہ جھوٹی حدیث کو سچی کر کے خدا نے غلطی کھائی۔(۴) اور اگر ایک حدیث ضعیف درجہ کی بھی ہو بشر طیکہ وہ قرآن اور سنت اور ایسی احادیث کے مخالف نہیں جو قرآن کے موافق ہیں تو اس حدیث پر عمل کرو۔لیکن بڑی احتیاط سے حدیثوں پر عمل کرنا چاہئے کیونکہ بہت سی احادیث موضوعہ بھی ہیں جنہوں نے اسلام میں فتنہ ڈالا ہے ہر ایک فرقہ اپنے عقیدہ کے موافق حدیث رکھتا ہے یہاں تک کہ نماز جیسے یقینی اور متواتر فریضہ کو احادیث کے تفرقہ نے مختلف الجن، ۷۲ :۲۸،۲۷ 26