ہماری تعلیم

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 25 of 41

ہماری تعلیم — Page 25

ہے یا مثلاً ایک ایسی حدیث ہو جو صحیح بخاری کے مخالف ہے تو وہ حدیث قبول کے لائق نہیں ہو گی کیونکہ اس کے قبول کرنے سے قرآن کو اور اُن تمام احادیث کو جو قرآن کے موافق ہیں رڈ کرنا پڑتا ہے اور میں جانتا ہوں کہ کوئی پر ہیز گار اس پر جرات نہیں کرے گا کہ ایسی حدیث پر عقیدہ رکھے کہ وہ قرآن اور سنت کے برخلاف اور ایسی حدیثوں کے مخالف ہے جو قرآن کے مطابق ہیں بہر حال احادیث کا قدر کرو اور اُن سے فائدہ اُٹھاؤ کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہیں اور جب تک قرآن اور سنت ان کی تکذیب نہ کرے تم بھی ان کی تکذیب نہ کرو بلکہ چاہئے کہ احادیث نبویہ پر ایسے کاربند ہو کہ کوئی حرکت نہ کرو اور نہ کوئی سکون اور نہ کوئی فعل کرو اور نہ ترک فعل۔مگر اس کی تائید میں تمہارے پاس کوئی حدیث ہو لیکن اگر (۱) کوئی ایسی حدیث ہو جو قرآن شریف کے بیان کردہ قصص سے صریح مخالف ہے تو اس کی تطبیق کے لئے فکر کرو شائد وہ تعارض تمہاری ہی غلطی ہو اور اگر کسی طرح وہ تعارض دور نہ ہو تو ایسی حدیث کو پھینک دو کہ وہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے نہیں ہے (۲) اور اگر کوئی حدیث ضعیف ہے مگر قرآن سے مطابقت رکھتی ہے تو اس حدیث کو قبول کر لو کیونکہ قرآن اس کا مصدق ہے۔(۳) اور اگر کوئی ایسی حدیث ہے جو کسی پیشگوئی پر مشتمل ہے مگر محد ثین کے نزدیک وہ ضعیف ہے اور تمہارے زمانہ میں یا پہلے اس سے اس حدیث کی پیشگوئی سچی نکلی ہے تو اس حدیث کو سچی سمجھو اور ایسے محدثوں اور راویوں کو مخطی اور کاذب خیال کرو جنہوں نے اس حدیث کو ضعیف اور موضوع قرار دیا ہو ایسی حدیثیں صدہا ہیں جن 25