ہماری کہانی

by Other Authors

Page 87 of 124

ہماری کہانی — Page 87

۸۷ انہیں دنوں مجھے سخاوت سکول میں داخل کر داد دیا گیا۔گھر میں پڑھائی کروا کر پوچھتی میں داخل کیا تھا۔ہمارے گھر کے حالات ایسے نہ تھے کہ پڑھائی کا خرچ چل سکے۔اس کے لئے میرے چھوٹے سے دماغ نے ایک ترکیب سوچی ہیں اپنے پاس ربر، پنسل ، رولر وغیرہ زائد رکھتی۔سب کو علم ہوتا گیا۔جس کو ضرورت پڑتی۔مجھے سے خرید لیتا۔اس طرح کچھ نہ کچھ پیسے میرے پاس جمع ہو جاتے جس سے نہیں دیتی۔بابا کی دواؤں کے لئے اب کچھ نہ بچا تھا۔نانا بھی شدید بیمار تھے۔نانا کی طبیعت شدید خراب ہوگئی تو بابا سے کہا مجھے کلمہ پڑھواؤ اور کلمہ پڑھتے ہوئے جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔نانا وہ شخص تھے جو بیٹی کو طلاق دلوانے پر بضد تھے کہ ہم اس کی اور بچیوں کی خود کفالت کریں گے ہمارے بابا اور امی کو خدمت کا موقعہ دے کر رخصت ہو گئے۔ہادی ماموں، ان کے خالو اور خسر محمد الیاس صاحب مہمن جماعات میں بڑے مقبول اور تعلیم یافتہ تھے اور اس لحاظ سے بھی منفرد تھے کہ ہماری مخالفت نہیں کی تھی۔ہادی ماموں نے غیر احمدیوں کے دستور کے مطابق ہمارے گھر میں ہی چالیسویں کا انتظام کیا۔جس میں برادری والوں کو آنا پڑا۔خالہ کی بڑی بیٹی رابعہ یونس عثمان سیٹھ کے بھتیجے عبدالکریم سے بیاہی ہوئی تھی جو بہت مخالف تھے مگر رابعہ اس وقت بھی نہیں آئیں۔صرف یونس عثمان اور عبدالکریم صاحب برادری کے ساتھ آئے۔وہ بھی عورتوں کی طرف نہیں آئے۔الیاس صاحب کے بیٹے نوری صاحب سے بابا کے ان کی علم دوستی کی وجہ سے اچھے مراسم تھے۔ان کی بیٹیاں اچھی صفات کی مالک تھیں اور بڑا پیار کرتی تھیں۔بابا کی بیماری اور تنگدستی دونوں میں برابر اضافہ ہو رہا تھا۔یونس عثمان منا نے پھر ایک کو سطل کی اپنی پرانی ملازمہ کے ہاتھ ایک کتاب بھیجی جو کسی جرمن ڈاکٹر کی لکھی ہوئی تھی وہ اس وقت کلکتہ آیا ہوا تھا۔اس کا دعویٰ تھا کہ وہ انگور