ہماری کہانی

by Other Authors

Page 78 of 124

ہماری کہانی — Page 78

<A کلام جزدانوں سے نکل کر ہمارے سینوں میں داخل ہو جاتا۔کہا جاتا ہے کہ حدیث علماء امتى كانبياء بني اسرائيل کے لحاظ سے یہ ٹھیکہ ان کا ہے۔بے شک مگر یہ ان ہی علماء کا ذکر ہے جن کو بنی اسرائیل کی طرح تکالیف دی گئیں کسی کو گالی دی گئی۔کسی کو قتل کیا گیا۔کسی کو قید کیا گیا۔کسی کی مشکیں کئی گئیں اور کسی کی اونٹ پر تشہیر کی گئی۔کسی پر کفر و الحاد کے فتوے لگائے گئے اس طرح انبیاء بنی اسرائیل کے ساتھ پوری مشابہت ہوئی۔کیونکہ انہوں نے اپنے انبیاء کے ساتھ یہی سلوک کیا تھا۔نہ کہ یہ خود ساختہ حشرات الارض کا بر عکس بند نام زنگی کا فور جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے صریح اور صاف حکم وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنَ الَّذِين فرقوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا كُلَّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ (روم :۳۳) یعنی تم ہرگز ان مشرکین کی طرح نہ ہو جانا جنہوں نے اپنے دین کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے اور ایک ایک ٹکڑے کے طرفدار ہو گئے اور ہر ایک فرقہ جو کچھ اس کے پاس ہے اس پر شاداں ہے۔اس حکم کے ٹھیک ہند ہی ٹھیک اسی طرح دین کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے اور اب صرف کفر کے فتو سے اور لوگوں کے بیویوں پر طلاق نامے لئے پھرتے ہیں۔کیا یہی لوگ مَا أَنَا عَلَيْهِ وآسمانی ہیں تند تروا کا يا أولى الألياب۔آپ نے لکھنو میں فرمایا تھا کہ قرآن مجمل ہے اور حدیثیں اس کی تفصیل ہیں بے شک یہی کچھ سمجھا کر قرآن کریم کو جزدانوں میں بند کرا دیا گیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول پاک کی زبان سے قرآن کریم میں کہلاتا ہے وَقَالَ الرسول يا رَبِّ إِن قَوْمِي اتَّخَذُ وَالهُذَ الْقُرْآنِ مَهْجُوراً (الفرقان : ۳۱) اب ذرا غور فرمائیے کہ ان دو میں سے کون سچا ہے۔اللہ رب العالمین یا یہ علماءمیں سوفت وَكُلَّ شَى فَقَتَلْنَاهُ تَفْضِيلاً - أَفَغَيْرِ اللَّهِ ابْنَغِى حَكَما وَهُوَ الَّذِي أَنزَلَ