ہماری کہانی — Page 60
از قادیان المورته ۲۲ جون که رقیہ ! یہ جگہ قادیان ایسی ہے کہ اگر تم لوگوں کی ذمہ داری مجھ پر نہ ہوتی تو زندگی کے باقی ایام میں بڑے اطمینان اور یکسوئی سے اللہ تعالیٰ کی عبادت میں صرف کرتا اور یہ ذمہ داری میں اس وقت بڑی آسانی سے والد پر پھینک کر علیحدہ ہو سکتا تھا مگر کیا ایسی عبادت اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول ہو سکتی ہے ہرگز نہیں ہیں جب تک زندہ ہوں اپنی ذمہ داریوں سے بھاگنا نہیں چاہتا۔میرا بھروسہ اللہ کی ذات پر ہے وہی بہترین کارساز ہے کوشش کئے جاؤنگا۔نتائج اس کے اختیار میں ہیں۔جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ یہ ابتلاء میرے لئے لازمی چیز ہے۔اللہ تعالیٰ کا قانون ہے اور وہ قانون بدلتا نہیں ہے۔تم لوگ جس کو مصیبت عظمیٰ سمجھ رہے ہو ئیں اس کو اللہ تعالیٰ کی عنایات سمجھ رہا ہوں اور میں جانتا ہوں کہ یہ کیا ہو رہا ہے اور کیوں ہو رہا ہے اور یہ کیسی مقصدہ کی تیاری ہے اور اس کے بغیر وہ مقاصد پورے ہو ہی نہیں سکتے۔یوں اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔سب کچھ ہو سکتا ہے مگر دعا میں یقین اور صبر اور شکر یہ ضروری باتیں ہیں ان کو نہ بھولو کبھی نا امیدی اور مایوسی کا دل میں گذر نہ ہونے دو۔اگرچہ سالہا سال گذر جائیں۔پچھلی راتیں بہت قبولیت رکھتی ہیں۔کوشش کرو کہ اس وقت تنہائی میں اپنے دل کو اس طرف لگاؤ۔دنیا کے بکھیرے گم کرد قبولیت دعا میں تقویٰ بہت ضروری ہے اور تقویٰ کے لئے ضرورت ہے کہ جھوٹ، غیبت ، غصہ، انتظام سے بالکل ہاتھ اٹھا لو بغیر اللہ کا خوف اور غیر اللہ سے طمع یہ دو چیزیں یا شکل نکل جانی چاہئیں۔خدا ہی سے ڈرو۔اور اسی پر بھروسہ رکھو۔اسی پر توکل کردو۔تم سچی نیت سے وفاداری کرد تو یقینا وہ تمہارا ہو جائے گا اور غیب سے ایسے ایسے ذرائع سے تم لوگوں کو رزق پہنچائیگا