ہماری کہانی — Page 36
۳۶ پھر ان کو جو مناسب معلوم ہو پھر کریں۔چونکہ یہ فیصلہ پورے خاندان پر اثر انداز ہے اور ساری قوم کی عاقبت کا معاملہ ہے اس لئے اس کو سرسری طور سے پڑھ کر ٹال دینا آپ کو اللہ تعالیٰ کے آگے ملزم شہر سے گا اس لئے اس پر پوری طرح غور و فکر کرنے کے بعد جو مناسب معلوم ہو کریں۔آپ نے مجھ سے لکھنو میں فرمایا تھا کہ ہم لوگ مجبور ہیں علماء حنفی سنت الجماعت کے فیصلہ کے مطابق عمل کرتے ہیں۔اس کے متعلق مجھے عرض کرنا ہے کہ اگر یہی معیار حق و باطل کا ہے تو اس قدر فرقہ اسلام میں ہیں وہ سب کے سب اپنے علماء کے پیرو ہیں اور سب ہی اپنے آپ کو حق پر اور دوسرے کو باطل قرار دیتے ہیں تو پھر کیا اپنے اپنے علماء کی پیروی کا نام حق ہے ؟ اگر یہی درست ہے تو پھر سب حق پر ہیں تو پھر یہ سر پھٹوں کیوں ہے ؟ اگر کہا جائے کہ ہم لوگوں کو یہی کرنا چاہیے کہ جہاں پیدا ہوئے وہیں رہیں تو پھر حق و باطل کا کوئی معیار نہیں رہتا۔یہودی عیسائی ہندو سب ہی اپنے علماء کی پیروی کرتے ہیں پھر یہ سب جہنم میں کیوں جائیں گے اور پھر رسالت نبوت وغیرہ یہ سب ایک بیکار چیز ہو جائے گی۔معیار ہے اور ضرور ہے اور ہمارے لئے تو سب سے بہتر ایک ہی معیار ہے کہ خان تَنَازَعْتُمْ فِي شَى فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَ الرسول کہ اگر تم میں کوئی تنازعہ ہو تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹو نہ کہ علماء کی طرف اللہ تعالیٰ ابنی اسرائیل کو ملزم کرتا ہوا۔کہتا ہے کہ اتَّخَذُو احْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ ارُبا با مِّن دُونِ اللَّهُ که (النساء (4) نے (توبه : ۳۱)