ہماری کہانی — Page 30
۳۰ میری زندگی اور موت کا سوال بالکل علیحدہ ہے مگر غالب ہر حال میں اللہ ہی رہیگا۔سے ہونے دو سارے زمانہ کو ادھر ہونے دو۔میر اور ہر حال میں صبر رکھو اسی پر بھروسہ رکھو۔وہ بڑا کارساز ہے اور ابھی ان لوگوں سے میل رکھو۔ان سے بگاڑ نہ کرو۔جیسے وہ لوگ کہیں ویسا کرو مگر اللہ تعالیٰ کے آگے سر جھکاؤ راتوں کو گڑ گڑاؤ اور صبر طلب کرو۔یہ ابتلا ہے۔آزمائش ہے۔کسوٹی ہے اس سے چھوٹ نہیں سکتے۔میں نے اپنے آپ کو بالکل اللہ تعالیٰ کے حوالہ کر دیا ہے جو اس کو منظور ہوگا اور جو کچھ وہ مجھ سے کرائے گا کروں گا۔وہ لوگ کہتے ہیں کہ نکاح باطل ہو گیا ہے۔جھک مارتے ہیں جھک مارنے دو۔تم کہتی ہو کہ ہمیشہ کیلئے جدا ہو گئے۔بے شک اگر میں مرگیا تو ہونا ہی ہے۔اگر خدا نے زندہ رکھا تو وہ صورت بھی پیدا کرے گا جو تم لوگوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا۔میرا اور بھروسہ رکھو اور دعا کرتے رہو اور اپنی طبیعت میں اطمینان پیدا کرد صحت کو خراب نہ کرو کیونکہ بچوں کے لئے ابھی تم کو زندہ رہنا ضروری ہے۔پندرہ روز کا ٹائم لیا ہے اور جواب تیار کر رہا ہوں اور جواب کے ساتھ اتمام حجت بھی ہوگا۔پھر اللہ کو جو منظور ہوگا وہ ہو گا۔اس پر شاکر رہنا اور غیب سے اس کی مدد کا انتظار کرتے رہنا بچوں کو سب کو دعا سلام اور پیار تم خود صبر کرو اور بچوں کو صبر کی تلقین کرو اور اللہ سے توبہ استغفار کرتے رہو اور اس مصیبت عظمی پر صبر کرو اور صبر کا اجر ضائع نہیں ہوتا۔دنیا چند روزہ ہے۔گناه گار عبد الستار