ہماری کہانی

by Other Authors

Page 108 of 124

ہماری کہانی — Page 108

۱۰۸ میں تفرقے پڑے ہیں تو صرف خدا کے آگے جھکی رہتی اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی کو ڈھا کے لئے خط لکھتی رہی۔جب خاندان میں جھگڑا ہے اور حق تلفیاں ہوں تو چھوٹی چھوٹی باتیں بھی بڑھنے لگتی ہیں۔سچ جھوٹ سرب مل جاتا ہے۔ایسے ایسے تکلیف کے موقعے بھی آئے کہ تڑپ تڑپ کر خدا تعالیٰ سے مدد مانگی۔مگر یہ سچ کا پاک ایمن چھوڑا نہ کسی اور کے آگے جھکے مگر اللہ تعالیٰ نے ہر جگہ خود بریت کے سامان کئے۔انہی دنوں بھیا شدید بیمار ہو گئے۔اپنڈکس کا درد اٹھا تھا مگر شوگر کی وجہ سے پیچیدگی ہوگئی۔بے ہوش ہو ہو جاتے۔سارا خاندان جمع تھا۔اس بے ہوشی میں بڑبڑاتے ہیں نے محمد کا خاندان کیوں چھوڑا۔اس کا کیا بنے گا۔اور اس دکھ میں بے چارے رخصت ہوئے۔پانچ جنوری کو بھیا کی وفات ہوئی۔پورٹ کے جہازوں کی کمپنی کے سربراہ تھے۔لوگ ہجوم در ہجوم آرہے تھے جہاز چارٹر کر کے جنازہ چٹا گانگ لے کر گئے تو وہاں بھی ائر پورٹ پر حد نظر تک سری سر نظر آرہے تھے۔ان کا دنیا سے جانا بھی عجیب عبرت انگیز منظر تھا۔پہاڑ پر بہت بڑا محل بنوایا تھا۔باغ لگوایا تھا۔فرنیچر بن کر ابھی پہنچا نہیں تھا جس کا جرمنی سے فنشنگ کا سامان آیا تھا محل تک جانے والی سٹرک گھوم گھوم کر جاتی۔وہ بھی نامکمل تھی کمپنی کی خدمت کرنے والوں کی قدر نہیں کی مگر خود رہنا نصیب نہ ہوا۔الیاس صاحب اور اپنے نام پر بنا ہوا سفید ہاتھی پہاڑی پر رہ گیا۔خود چلے گئے۔دوسری طرف ان کے سب سے چھوٹے بھائی محمد صاحب کو اللہ نے یہ توفیق دی کہ اپنی کمائی سے چندہ دیں۔کلکتہ کی مسجد میں کافی چندہ دیا۔اس کا سنگِ بنیاد رکھتے وقت حضرت مرزا وسیم احمد صاحب قادیان سے آئے تھے ہمیں عید سے زیادہ خوشی ہوئی تھی۔میرے بیٹے بھی شریک ہوئے تھے۔یہ عجیب دن تھے آپا رابعہ کے گھر اکٹھے ہوتے۔حضرت مسیح موعود کی باتیں ہوتیں بچے نظمیں یاد کرتے بھائی