ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 97 of 255

ہمارا خدا — Page 97

اگر کوئی شخص یہ سوال کرے کہ پھر اس بالا ہستی کا خالق و مالک کون ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ اگر یہ بالا ہستی بھی کسی بالا در بالا ہستی کی مخلوق ہے تو پھر یہ بالا در بالا ہستی ہی خدا کہلائے گی اور اس کے نیچے کی تمام ہستیاں مخلوقات کا حصہ سمجھی جائینگی۔الغرض جس ہستی پر بھی اس سلسلہ کو بند قرار دیا جائے یعنی جس ہستی کو بھی اس سلسلہ کی ابتدائی ہستی سمجھا جائے جس کے اوپر کوئی اور ہستی نہیں ہے اُسی کا نام ہم خُدا رکھتے ہیں اور اس کے سوا باقی سب کو مخلوقات کا حصہ قرار دیتے ہیں۔اور اگر کسی شخص کو یہ خیال گذرے کہ چونکہ ہر ہستی کے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا جائے گا کہ اس کا خالق و مالک کون ہے اس لئے کوئی ایسی ہستی ثابت ہی نہ ہو سکے گی جسے ابتدائی ہستی کہا جاسکے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات عقلاً ناممکن ہے کہ اس سلسلہ کی کوئی ابتدائی ہستی نہ ہو کیونکہ اگر کوئی ابتدائی نہستی تسلیم نہ کی جائے تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نیچے کی تمام ہستیوں کے وجود سے جو ابتدائی ہستی کا نتیجہ ہیں اور جن میں سے ایک دُنیا بھی ہے انکار کرنا پڑتا ہے۔جس کے دوسرے الفاظ میں یہ معنی ہیں کہ دُنیا و مافیہا صرف وہم ہی وہم ہے ورنہ در اصل نہ کوئی زمین ہے اور نہ کوئی آسمان ہے اور نہ کوئی چاند ہے اور نہ کوئی سورج ہے اور نہ کوئی ستارے ہیں اور نہ کوئی انسان ہے اور نہ کوئی حیوان ہے اور نہ کوئی درخت ہے اور نہ کوئی پانی ہے اور نہ کوئی ہوا ہے اور نہ کوئی اور چیز ہے۔مثلاً اگر ہم اس دُنیا کو الف قرار دیں اور اس کے خالق کا نام ب رکھیں اور یہ فرض کریں کہ ب کو ج نے پیدا کیا اور ج کو د نے۔اور اسی طرح جہاں تک ہماری طاقت ہے اس سلسلہ کو اوپر لے جاتے چلے جائیں یعنی ہر ہستی کے متعلق یہ فرض کرتے جائیں کہ وہ کسی دوسری بالا ہستی کی مخلوق ہے تو ظاہر ہے کہ یہ سلسلہ کسی جگہ بھی ختم نہیں ہوگا۔جس کے یہ معنے ہیں کہ اس سلسلہ کی کوئی ایسی کڑی ثابت نہیں ہو سکے گی جسے ہم ابتدائی کڑی کہ سکیں اور جب ابتدائی کڑی ثابت نہ ہوئی تو لامحالہ اس سے نیچے 97