ہمارا خدا — Page 96
خصوصیت سے یہ بتا دینا بھی ضروری ہے کہ ابھی تک یہ نظریہ صرف ایک قیاس یعنی تھیوری کی حد تک ہے اور سائنس کے ثابت شدہ حقائق میں داخل نہیں بلکہ بہت سے سائنسدانوں نے اسے سختی کے ساتھ رڈ کیا ہے۔چنانچہ دنیا کے مشہور سائنسدان سرجان امبروز فلیمنگ کی وفات پر جو تار اخباروں میں چھپی تھی اس میں لکھا تھا کہ : گوسر جان ایک نہایت نامور سائنسدان تھا مگر وہ معجزات کا منکر نہیں تھا۔۔اور ڈارون کی ارتقائی تھیوری کو ایک محض دماغی تخیل خیال کرتا تھا۔پس اس مسئلہ کی بنا پر خدا کی ذات کے متعلق اعتراض کرنا ہر گز دانائی کا رستہ نہیں سمجھا جا سکتا۔خدا غیر مخلوق ہے انگلی دلیل شروع کرنے سے پہلے ایک شبہ کا ازالہ ضروری ہے جو اس موقعہ پر بعض نا واقف لوگوں خصوصاً نوجوانوں کے دلوں میں پیدا ہو ا کرتا ہے۔اور وہ یہ ہے کہ اگر اس دُنیا کو خُدا نے پیدا کیا ہے تو خدا کوکس نے پیدا کیا ہے؟ یعنی جب دُنیا کے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کا خالق و مالک کون ہے تو خدا کے متعلق بھی یہ سوال پیدا ہونا چاہئے کہ خدا کا خالق و مالک کون ہے؟ اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ قطع نظر اس کے کہ خدا نے متعلق ایسا سوال پیدا ہی نہیں ہو سکتا جیسا کہ آگے چل کر ثابت کیا جائے گا اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ جو ہستی اس دُنیا کی خالق و مالک ہے اُسے کسی اور بالا ہستی نے پیدا کیا ہے تو پھر بھی دلیل کی رو سے کوئی حرج لازم نہیں آتا کیونکہ اس صورت میں ہم اس بالا ہستی ہی کا نام خدا رکھیں گے اور اس ماتحت ہستی کو مخلوقات میں سے ایک مخلوق اور سلسلہ اسباب میں سے ایک سبب اور وسائط خلق میں سے ایک واسطہ قرار دینگے۔اور سول اینڈ ملٹری گزٹ لاہور۔مؤرخہ 22 اپریل 1945 ء 96