ہمارا خدا — Page 92
طور پر معطل نہیں ہوتی اور ہر زمانہ میں اس کی ہر صفت کسی نہ کسی رنگ میں ظاہر ہوتی رہتی ہے۔پس چونکہ خلق کرنا بھی اس کی صفات میں سے ایک صفت ہے لہذا یہ عقیدہ سراسر اسلام کے خلاف ہوگا اگر یہ سمجھا جائے کہ گویا صرف پانچ یا چھ یا سات ہزارسال سے ہی مخلوقات کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور اس سے پہلے کچھ نہیں تھا۔اس سے ثابت ہوا کہ حدیث مذکورہ بالا کے یہ معنے نہیں ہو سکتے کہ دُنیا کی عمر صرف چند ہزار سال کی ہے۔بلکہ جیسا کہ خود اکا بر اسلام نے لکھا ہے اور موجودہ زمانہ کے مامور وصلح حضرت مسیح موعود علیہ السلام بافی سلسلہ احمدیہ نے مفصل تشریح فرمائی ہے۔اس حدیث کے یہ معنے ہیں کہ دنیا پر مختلف دور آتے رہے ہیں اور موجود نسل کا دور چند ہزار سال سے شروع ہے اور نمعلوم ایسے کتنے دور اس دنیا پر آئے ہیں۔چنانچہ اسلام کے ایک مشہور عالم اور صوفی حضرت محی الدین ابن عربی ” لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ مجھے عالم کشف میں دکھایا گیا کہ اس دُنیا میں لاکھوں آدم گذرے ہیں اور جب ایک آدم کی نسل کا دور ختم ہوتا ہے تو دوسرے آدم کا دور شروع ہو جاتا ہے اور اس بات کا علم خدا کے پاس ہے کہ دُنیا پر کتنے دور آئے ہیں۔پس اس معنے کے لحاظ سے قطعاً کوئی اعتراض نہیں رہتا اور یہی معنے درست ہیں اور یہ خیال اسلام کی رو سے سراسر باطل ہے کہ آج سے چند ہزار سال قبل کوئی مخلوق نہیں تھی اور گویا خد انعوذ باللہ معطل بیٹھا تھا۔اسی طرح قرآن شریف میں آتا ہے کہ ہم نے آدم کو مٹی سے بنا کر پھر اپنے حکم سے اُس کے اندر جان ڈالی۔اور اس سے بعض لوگوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ گویا نسلِ انسانی کا آغاز اس طرح پر ہوا ہے کہ خُدا نے ایک مٹی کا بت بنایا اور پھر اس میں پھونک مار کر جان ڈال دی اور اس کے بعد نسلِ انسانی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔حالانکہ الحکم 30 مئی 1908 ء و چشمہ معرفت صفحہ 160 فتوحاتِ مکيه باب حدوث الدنيا جلد 3 92