ہمارا خدا — Page 91
کے بھی ہوتے ہیں اور جاہلیت کے عرب شعراء میں کثرت کے ساتھ یوم کا لفظ اسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے لیکن بعض لوگوں نے سادگی یا کم علمی سے اس کے معنے چھ دن کر دیئے۔اور پھر آگے سمجھنے والوں نے دن سے چوبیس گھنٹے مراد لے لئے حالانکہ خود آیت کا قرینہ اس بات کو ظاہر کر رہا ہے کہ یہاں معروف دن مراد نہیں ہے کیونکہ یہ معروف دن تو سورج کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور زمین کے چکر کے نتیجہ میں قائم ہوتا ہے۔مگر جس زمانہ کا اس آیت میں ذکر ہے وہ سورج اور زمین کے وجود سے پہلے کا ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے زمین و آسمان اور سورج اور چاند اور ستاروں کو چھ دنوں میں پیدا کیا ہے۔پس لامحالہ یہاں دن سے مراد وہ دن لیا جائے گا جو ان تمسی دنوں سے پہلے موجود تھا اور وہ عام زمانہ اور وقت ہے۔پس نہ صرف لغت عرب بلکہ خود آیت کا قرینہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں یوم سے مراد عام عرفی دن نہیں ہے بلکہ زمانہ اور وقت مراد ہے۔اور اس طرح آیت قرآنیہ کے یہ معنے ہوئے کہ ہم نے موجودہ دنیا کو چھ مختلف اوقات میں درجہ بدرجہ پیدا کیا ہے۔اور یہ وہ دعوی ہے جس کے متعلق سائنس کی رُو سے کوئی اعتراض نہیں پڑتا بلکہ خود سائنسدان اس بات کو مانتے ہیں کہ یہ عالم آہستہ آہستہ مختلف درجوں اور دوروں سے گزر کر موجودہ حالت کو پہنچا ہے۔اسی طرح مثلاً حدیث میں آتا ہے کہ دُنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے اور یہ کہ آدم کو آنحضرت ﷺ سے پانچ ہزار سال پہلے پیدا کیا گیا تھا۔اور اس کے معنے بعض لوگوں نے غلطی سے یہ سمجھ لئے ہیں کہ گویا نسلِ انسانی کا آغاز صرف چند ہزار سال سے ہوا ہے اور اس طرح مسئلہ ارتقاء والوں کو اعتراض کا موقعہ مل گیا ہے۔حالانکہ حق یہ ہے کہ اسلام ہرگز یہ تعلیم نہیں دیتا کہ یہ کارخانہ عالم صرف چند ہزار سال سے جاری ہے اور اس سے پہلے کچھ نہیں تھا اور اسلام کی طرف اس خیال کو منسوب کرنا سراسر جہالت اور نادانی ہے۔اسلام کا تو یہ عقیدہ ہے کہ خدا تعالے کی کوئی صفت بھی کسی زمانہ میں مستقل 91