ہمارا خدا — Page 239
محققین نے اپنے لئے ٹھوکر کا سامان مہیا کر رکھا ہے۔عزیز و! خوب سوچو اور غور کرو کہ زائد حصوں کو الگ کر کے فرائیڈ اور اُس کے ہم خیال محققین کی دلیل کا حقیقی خلاصہ اور مرکزی نقطہ سوائے اس کے کچھ نہیں ہے کہ انسان فطرۃ ایک بالا اور زیادہ طاقتور ہستی کا متلاشی ہے جسے وہ بطور نمونہ یعنی ماڈل اپنے سامنے رکھ سکے اور جس کے غالب علم اور غالب قدرت کے سامنے وہ مرعوب ہو اور اسے اپنی حفاظت کا ذریعہ سمجھے۔اور جب اُن کی دلیل کا مرکزی نقطہ یہ ہے تو ظاہر ہے کہ یہ دلیل ہستی باری تعالیٰ کے حق میں ہے نہ کہ اس کے خلاف۔اور کتاب ہذا کے ابتدائی حصہ میں ہم بیان کر چکے ہیں کہ خود قرآن شریف نے اس دلیل کو فطری دلیل کی صورت میں خدا کی ہستی کے ثبوت میں پیش کیا ہے ( ملاحظہ ہو کتاب ہذا صفحہ 47 تا 54 پس یہ دعویٰ کہ باپ کے تصور کی وجہ سے بیٹے کے دل میں بڑے ہو کر ایک ذہنی خلا پیدا ہو جاتا ہے جسے پُر کرنے کے لئے وہ آہستہ آہستہ ایک خیالی خدا کا تصور پیدا کر لیتا ہے ایک محض ہوائی دعوی ہے جو کچی فطرت انسانی اور دنیا کے وسیع مشاہدہ کے خلاف ہے۔ہاں بیشک یہ درست ہے کہ خدا کے ایمان کے بغیر فطرتِ انسانی میں ایک خلاضرور رہتا ہے اور یہی وہ خلا ہے جو سعید لوگوں کو بالآخر بچے خدا کی طرف کھینچ لاتا ہے۔الغرض جس جہت سے بھی دیکھا جائے دہریت کی یہ دلیل جو فرائیڈ اور اس کے ہم خیالوں کی طرف سے پیش کی گئی ہے ایک فلسفیانہ تخیل کے سوا کچھ نہیں۔بلکہ حق یہ ہے کہ یہ دلیل اپنی اصلی صورت میں ہستی باری تعالیٰ کے حق میں ہے نہ کہ اس کے خلاف۔اور یہی وجہ ہے کہ کئی دوسرے مغربی محققین نے دہریت کے اس استدلال کو قابل قبول نہیں سمجھا اور اسے رڈ کیا ہے۔یہ وہ سات اُصولی دلیلیں ہیں جو د ہریوں کی طرف سے عام طور پر اپنے عقیدہ کی اس ایڈیشن کے صفحات 50 تا 57 (پبلشرز ) 239