ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 22 of 255

ہمارا خدا — Page 22

آخر جو رستہ کسی کمرہ کے اندر داخل ہونے کے لئے مقرر ہے اُسی سے تم اندر جا سکتے ہو اور تمہارا یہ مطالبہ سراسر مجنونانہ ہے کہ تمہارے واسطے اس کے اندر جانے کے لئے کوئی ایسا راستہ کھولا جائے جو تمہاری مرضی کے مطابق ہو۔اگر تمہاری مرضی مانی جائے تو زید کی کیوں نہ مانی جائے۔اور اگر زید کی مانی جائے تو بکر کی کیوں نہ مانی جائے؟ گویا مطلب یہ ہوا کہ خدا بھی تمہارے تخیلات کا کھلونا بن جائے اور نعوذ باللہ ایک بہروپیا کی طرح جس طرح کوئی چاہے اسی طرح اپنی صفات بدلتا رہے تا تمہاری ان نازک خیالیوں کو ٹھیس نہ لگنے پائے۔افسوس ! افسوس !!مَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ۔لوگوں نے خدا کی قدرکو بالکل نہیں پہچانا۔عزیز و! اس بات کو خوب سمجھ لو کہ کوئی چیز جتنی کثیف ہوتی ہے اتنا ہی اس کا ادراک یعنی اُس کے متعلق علم حاصل کرنا انسان کے ظاہری حواس کے قریب ہوتا ہے اور جتنی کوئی چیز لطیف ہوتی ہے اتنا ہی اس کا ادراک انسان کے ظاہری حواس سے دور ہوتا ہے اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ جو چیزیں بہت لطیف ہوتی ہیں ان کے ادراک کے لئے عموماً ان کے اثرات و افعال و نتائج کی طرف متوجہ ہونا پڑتا ہے کیونکہ ان کا ادراک ہمارے ظاہری حواس کے لئے براہ راست ممکن نہیں ہوتا۔ان حالات میں یہ کیسے ممکن ہے کہ خدا جو ایک الطف ترین ہستی ہے بلکہ جو خود دوسری لطیف چیزوں کو پیدا کرنے والا ہے وہ ان مادی آنکھوں سے نظر آ جائے۔پس معترض کا یہ کہنا کہ جب تک ہم خدا کو اپنی ظاہری آنکھوں سے نہ دیکھ لیں گے ہم نہیں مانیں گے ایک فضول اور لایعنی بات ہے۔اس کے یہ معنے ہیں کہ یا تو معترض کے نزدیک نعوذ باللہ خدا ایک کثیف ہستی ہے اور یا کم از کم اس کا یہ منشا ہے کہ اُس کی خاطر خدا کو کثافت اختیار کر لینی چاہئے تا وہ اُسے اپنی ان آنکھوں سے دیکھ کر تسلی کر سکے۔مگر مشکل یہ ہے کہ دنیا میں لاکھوں لوگ اندھے ل سورة الحج - آیت 75 22