ہمارا خدا — Page 227
ہے اور صرف عامۃ الناس اس قسم کے شبہات کا شکار ہوتے ہیں۔کیونکہ وہ بوجہ اپنی جہالت کے حقائق الاشیاء سے بہت کم آگاہ ہوتے ہیں اور ان کی نظر اشیاء کی ظاہری شکل وصورت اور ظاہری افعال واثرات سے آگے نہیں جاتی اور زیادہ باریک اور گہرا مطالعہ انہیں میسر نہیں ہوتا۔لیکن جو لوگ زیادہ وسیع مطالعہ رکھتے ہیں اور ان کی نظر ظاہر سے گذر کر حقائق کی گہرائیوں تک پہنچنے کی عادی ہوتی ہے۔وہ خوب سمجھتے ہیں کہ ہر چیز اپنے اندر کوئی نہ کوئی فائدہ رکھتی ہے۔اور یہ کہ جتنا کسی چیز کا زیادہ مطالعہ کیا جائے اتنا ہی اس کے فوائد اور اس کی ہستی کی غرض و غایت زیادہ نمایاں طور پر نظر آنے لگتے ہیں اور اسی لئے اگر ایسے لوگوں کو کسی چیز میں ایک وقت تک کوئی فائدہ نظر نہیں بھی آتا تو وہ یہ خیال نہیں کرتے کہ اس کا وجود محض فضول اور باطل ہے۔بلکہ وہ اس یقین پر قائم رہتے ہیں کہ زیادہ گہرے مطالعہ سے آئندہ کسی وقت اس کے اندر بھی کوئی حکمت اور کوئی فائدہ معلوم ہو جائے گا کیونکہ وہ بار بار کے تجربات سے یہ یقینی علم حاصل کر چکے ہوتے ہیں کہ جو چیزیں ظاہری اور سرسری نظر میں بے فائدہ بلکہ ضرررساں نظر آتی ہیں ان کے اندر بھی گہرے مطالعہ اور تحقیق سے بہت سے فوائد دریافت ہو جاتے ہیں۔پس یہ اعتراض محض جہالت کا اعتراض ہے اور حق یہی ہے کہ دُنیا کی ہر چیز اپنے اندر کوئی نہ کوئی حکمت اور کوئی نہ کوئی فائدہ رکھتی ہے۔اور حقائق الاشیاء کے مطالعہ میں انسان جتنا بھی ترقی کرتا جاتا ہے اتنا ہی اس کے اندر یہ یقین زیادہ راسخ اور زیادہ بصیرت کے ساتھ قائم ہوتا جاتا ہے کہ دُنیا کی کوئی چیز بھی باطل نہیں۔افسوس ! معترضین اس بات کو بھی نہیں سوچتے کہ گذشتہ زمانوں میں جبکہ حقائق الاشیاء کا علم بہت محدود تھا اور سائنس کے علوم کی طرف لوگوں کی توجہ بہت کم تھی اُس وقت موجودہ زمانہ کی نسبت بہت زیادہ چیزیں ایسی تھیں جو بالکل بے فائدہ بلکہ ضرر رساں نظر آتی تھیں لیکن حقائق الاشیاء کے علم اور سائنس کی تحقیقاتوں کی ترقی کی 227