ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 218 of 255

ہمارا خدا — Page 218

چونکہ مختلف بچوں کے والدین کے حالات مختلف ہوتے ہیں اس لئے بچوں کے حالات بھی مختلف ہو جاتے ہیں۔علم طب نے جو قانون نیچر کا حصہ ہے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ اگر والدین تندرست ہونگے تو بچہ بھی تندرست ہوگا اور اگر والدین کمزور ہو نگے تو بچہ بھی کمزور ہو گا۔حتی کہ بعض اوقات والدین کی جسمانی حالت کی تفصیلات میں بھی بچہ ان کا وارث ہوتا ہے۔یہ علم اس قدر وسیع ہے اور ایسے طور پر بار بار کے تجربات اور مشاہدات سے پایہ ثبوت کو پہنچ چکا ہے کہ کوئی عقلمند اس کا انکار نہیں کر سکتا۔حتی کہ یہاں تک ثابت ہو چکا ہے کہ جس وقت مرد اور عورت مخصوص تعلق کی غرض سے اکٹھے ہوتے ہیں تو اُن کی اُس وقت کی حالت بھی پیدا ہونے والے بچہ پر ایک گہرا اثر پیدا کرتی ہے اور اسی لئے شریعت اسلامی نے کمال حکمت سے اس بات کا حکم دیا ہے کہ جب مرد اور عورت اکٹھے ہونے لگیں تو انہیں چاہئے کہ اپنے دل کے خیالات کو پاک وصاف بنالیں تا کہ بچہ اُن کی اس ذہنی نیکی سے حصہ پائے۔الغرض یہ بات علم طب کی رُو سے قطعی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ والدین بلکہ والدین سے بھی اوپر کے اجداد کا اثر بچہ میں پہنچتا ہے اور یہ جو دُنیا میں کوئی بچہ تندرست اور کوئی کمزور ، کوئی سیح وسلامت اور کوئی ناقص پیدا ہوتا ہے یہ سب اسی اثر کا نتیجہ ہے۔دراصل نیچر کا یہ ایک عام قانون ہے اور قرآن شریف نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے جہاں فرمایا ہے کہ ہر چیز اپنے دائیں بائیں اثر ڈالتی ہے (سورۃ الفل۔آیت 49) کہ دنیا کی چیزیں ایک دوسرے کے سہارے پر کھڑی ہیں اور ہر چیز ہر دوسری چیز سے علی قدر مراتب اثر لے رہی ہے اور اپنا اثر اسے دے رہی ہے اور اسی اثر کے ماتحت بچہ اپنے ماں باپ کی (جن سے وہ اقرب ترین تعلق رکھتا ہے ) اچھی یا بُری حالت سے حصہ پاتا ہے۔پس بعض لوگوں نے جو یہ سمجھ رکھا ہے کہ بچوں کا پیدائش کے 218