ہمارا خدا — Page 216
ہے اور اس کی وجہ قانونِ شریعت میں تلاش کی جاتی ہے اور وجہ کے نہ ملنے پر یہ خیال کرلیا جاتا ہے کہ بس سب اندھیر نگری ہے۔اے بدقسمت لوگو! خدا تمہیں عقل دے۔نیچر کے واقعہ کی وجہ قانون نیچر میں تلاش کرو اور شریعت کی سزاؤں کی وجہ قانون شریعت میں۔تب تمہیں معلوم ہوگا کہ اندھیر نگری وہ نہیں جو ہورہا ہے بلکہ وہ ہے جو تم کہتے ہو کیونکہ اس سے بڑھ کر اور کیا اندھیر نگری ہوگی کہ اگر کوئی شخص قانون نیچر کی زد میں آجانے کی وجہ سے پانی میں ڈوب جائے یا آگ میں جل جائے یا چھت کے نیچے دب کر مر جائے یا کسی اور طرح ہلاک ہو جائے تو تم یہ خیال کرنے لگ جاتے ہو کہ چونکہ اُس نے قانونِ شریعت کے ماتحت کوئی گناہ نہیں کیا تھا اس لئے اس کے ساتھ ظلم ہوا ہے۔افسوس ! افسوس! ظالم تو تم ہو کہ قانون نیچر کا حق قانونِ شریعت کو دیتے ہو اور قانون شریعت کا قانون نیچر کو اور پھر اعتراض کرتے ہو خُدا پر۔خوب یاد رکھو کہ نیچر اور شریعت دو الگ الگ حکومتیں ہیں اور یہ حکومتیں مہذب سلطنتوں کی طرح ایک دوسرے کے نظام میں دخل نہیں دیتیں۔سوائے اس کے کہ خدا کی مرکزی حکومت کسی اشد ضرورت کے وقت ایک ملک کی فوج کو دوسرے ملک کی امداد کے لئے جانے کا حکم دے۔جیسا کہ انبیاء و مرسلین کی بعثت کے وقت جبکہ دنیا کی اصلاح کے لئے آسمان پر ایک خاص جوش ہوتا ہے بعض صورتوں میں قانون نیچر کی طاقتوں کو قانونِ شریعت کی خدمت میں لگا دیا جاتا ہے چنانچہ معجزات و خوارق اسی استثنائی قانون کی قدرت نمائی کا کرشمہ ہوتے ہیں۔مگر عام قاعدہ یہی ہے کہ قانون نیچر اور قانونِ شریعت بالکل الگ الگ رہتے ہیں اور ایک دوسرے کے دائرہ میں دخل نہیں دیتے اور نہ ایک دوسرے کی خاطر اپنا رستہ چھوڑتے ہیں۔الغرض یہ سارا دھو کہ ان دونوں قانونوں کے مخلوط کر دینے اور ان کے امتیاز کوملحوظ نہ رکھنے کے نتیجہ میں پیدا ہوا ہے ورنہ بات بالکل صاف اور واضح تھی۔216