ہمارا خدا — Page 171
کر کے ایسے کاموں میں حصہ لیں جو لوگوں کی جسمانی اور اخلاقی اور علمی اور قتصادی بہبودی کا موجب ہیں۔پس دُنیا کے ایک شہری ہونے کی حیثیت میں بھی ایک دہریہ اس قسم کے خیالات اور جذبات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس قسم کے کاموں میں دلچسپی لیتا ہے۔لیکن ظاہر ہے کہ یہ صورت بھی ایک ضابطہ اور معاملہ کا رنگ رکھتی ہے اور و طبعی اور جذباتی رشتہ پیدا نہیں کرسکتی جو ایمان باللہ کا عقیدہ پیدا کرتا ہے۔اور ایسا شخص جو محض اس بنا پر ہمدردی خلق اللہ کے خیالات پیدا کرتا ہے کبھی بھی اس شخص کے مقام کو نہیں پہنچ سکتا جو اس لئے نسلِ انسانی کے ساتھ محبت اور اخوت کے تعلقات رکھتا ہے کہ بوجہ ایک خدا کی مخلوق ہونے کے یہ جذبہ اس کی فطرت کا حصہ ہے۔گویا جہاں خدا کا خیال فطری اور طبعی طور پر یہ جذبات انسان کے دل میں پیدا کرتا ہے وہاں یہ دوسری قسم کے خیالات جو سوچ بچار کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں محض ضابطہ اور معاملہ کے رنگ میں انسان کو اس طرف متوجہ کرتے ہیں۔پس فرق ظاہر ہے۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ دہریہ کے دل میں نسل انسانی کی ہمدردی کے خیالات جن وجوہات سے پیدا ہوتے ہیں وہ اُسے قطعاً اس اعلیٰ اور اشرف مقام تک نہیں پہنچا سکتے جو ایمان باللہ کے نتیجہ میں انسان کو حاصل ہوسکتا ہے۔علاوہ ازیں یہ بھی یادرکھنا چاہئے کہ یہ جو باقی وجوہات ہمدردی اور محبت کے خیالات پیدا کرنے کی موجب ہیں یہ عام ہیں جن سے ایک مومن باللہ بھی اسی طرح فائدہ اُٹھا سکتا ہے جس طرح کہ ایک دہر یہ اُٹھاتا ہے لیکن ایمان باللہ کے نتیجہ میں جو جذبات پیدا ہوتے ہیں وہ صرف مومنوں کے ساتھ مخصوص ہیں جن سے ایک دہر یہ کسی صورت میں بھی متمتع نہیں ہوسکتا اور ظاہر ہے کہ جہاں بہت سے اسباب کسی نتیجہ کے پیدا کرنے میں مجموعی طور پر اثر ڈالیں گے وہاں لا ز ما نتیجہ زیادہ اکمل اور اتم صورت میں ظاہر ہوگا پس اس لحاظ سے بھی خدا کا عقیدہ بہر حال مفید اور نفع بخش ٹھہرتا ہے۔171