ہمارا خدا — Page 145
ہے۔کیا یہ کسی انسانی ہاتھ کا کام ہے؟ ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔انسانی ہاتھ کا کام اسباب اور ماحول کا محتاج ہوتا ہے مگر یہاں جتنے بھی اسباب تھے وہ دشمن کے ہاتھ میں تھے اور حضرت مرزا صاحب علیہ السلام کے ہاتھ میں کچھ بھی نہ تھا۔مگر باوجود مخالفوں کی انتہائی کوششوں کے حضرت مرزا صاحب کی فولادی میخیں دُنیا کے قلوب میں دھستی ہی چلی گئیں اور جب 1908ء میں آپ کو خدا کی طرف سے پیغامِ وصال آیا تو چار لاکھ جاں نثار، وفا شعار خادم آپ کے جھنڈے کے نیچے جمع تھا اور اب جبکہ آپ کی وفات پر صرف سترہ سال گذرے ہیں۔آپ کے نام لیوا اسلام کی تبلیغ کے لئے دُنیا کے ہر ملک میں پھیلے ہوئے نظر آتے ہیں اور خدا کے رستہ میں اپنی بے نظیر قربانیوں سے دنیا کی نظروں کو حیرت میں ڈال رہے ہیں۔یہ باتیں کوئی قصے کہانیاں نہیں بلکہ واقعات ہیں جن کو دشمن بھی اپنی عداوت اور تعصب کے پردے میں نہیں چھپا سکتا۔ایک گمنام شخص گاؤں کا رہنے والا شخص بے سروسامان شخص اُٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ خدا نے مجھے اپنے نام کا جلال قائم کرنے کے لئے کھڑا کیا ہے۔دُنیا اس کا انکار کرتی ہے اور ہر مذہب و ملت کے لوگ اپنے پورے لاؤ لشکر کے ساتھ اس کے خلاف میدان میں اُتر آتے ہیں اور اپنی طاقت کے گھمنڈ میں متوالے ہو کر سمجھتے ہیں کہ بس ہم ایک آن کی آن میں اسے صفحہ دنیا سے حرف غلط کی طرح مٹا کر رکھ دینگے۔اس وقت جدھر دیکھو دشمن ہی دشمن ہیں اور دشمن بھی ایسے کہ بس خون کے پیاسے اور اس کے مقابلہ میں اپنے سارے اختلافات کو بھول کر ایک جان ہو جانے والے اور اُن میں سے ہر ایک اس بات کا شائق ہے کہ سب سے پہلے وہی آگے بڑھ کر اپنا وار کرے مگر وہ جس کو یہ لوگ ایک بھنبھنانے والا مچھر یا ایک پانی کا بلبلہ سمجھتے تھے وہ خدائے غیور کے ہاتھ میں ایک ایسی بر ہنہ تلوار تھی کہ وہ جس پر گری اُسے ہلاک کیا اور اُس پر جو گرا وہ ہلاک ہوا۔ایڈیشن ثانی کے وقت ارتمیں سال گزر چکے تھے اور ایڈیشن سوم کے وقت سینتالیس سال 145