ہمارا خدا — Page 144
ایک مستحکم چٹان کی طرح اپنی جگہ پر قائم ہے۔اس کے ہاتھ میں کوئی تلوار نہیں جسے چلائے ، کوئی مال نہیں جسے بکھیرے، کوئی ظاہری علم نہیں جس کیسا تھ مرعوب کرے، کوئی طاقت نہیں جس کے ساتھ ڈرائے۔ہاں صرف ایک روحانی جھنڈا ہے جس پر کسی ایک غیر ارضی روشنائی میں لکھے ہوئے یہ الفاظ چمک رہے ہیں کہ : دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خُدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دے گا۔اور جوں جوں دشمن کا حملہ خطر ناک صورت اختیار کرتا جاتا ہے توں توں وہ اس آسمانی جھنڈے کو اپنے ہاتھوں میں بلند کرتا جاتا ہے۔اور نہ معلوم ان الفاظ میں کیا جادو بھرا ہے کہ منکرین کی افواج کے سپاہی ان الفاظ کو دیکھتے ہیں اور اپنی صفوں کو چھوڑ چھوڑ کر اس جھنڈے کی طرف بھیجے چلے آتے ہیں۔مخالف گروہ ان لوگوں کو ہر ممکن طریق سے تنگ کرتا ہے، تمدنی سزائیں دیتا ہے، اُن کے مال و دولت کو چھین لیتا ہے، ان کے بیوی بچوں کو اُن سے جدا کر دیتا ہے، ان کو مارتا ہے، پیٹتا ہے، قابو پاتا ہے تو قتل کر دینے سے دریغ نہیں کرتا، ان کے مُردوں کو اپنے مقبروں میں دفن کرنے سے روکتا ہے مگر لوگ ہیں کہ بے خود ہو کر کھچے چلے آتے ہیں اور اپنی ظاہری آزادی کے تخت سے اتر اتر کر اس گاؤں کے رہنے والے بے یارومددگار بے نام و نمود شخص کی غلامی کا طوق اپنی گردنوں میں پہننے کے واسطے بے چین ہوئے جاتے ہیں۔↓ اللہ اللہ یہ کیا نظارہ ہے! مخالفین کہتے تھے کہ یہ ایک چھر ہے جو اپنی بھنبھناہٹ سے ہمارے دماغ کو پریشان کر رہا ہے اگر یہ خاموش نہ ہو اتو ہم اسے اپنی انگلیوں میں لیکر مسل دینگے۔مگر آج اُسی ” بھنبھنانے والے“ کے نام لیوا دنیا کے ہر قلعہ پر حملہ آور ہیں اور دشمن بھی اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اگر آج مذہبی دنیا میں کوئی طاقت ہے تو یہ براہین احمدیہ حصہ چہارم مصنفہ 1884ء 144