ہمارا خدا — Page 141
تاریخ سے جاہل مطلق یہ کہو کہ عرب نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی تلوار سے ڈر کر اسلام قبول کیا تھا! تعصب کا ستیاناس ہو۔بے انصافی کی بھی کوئی حد ہونی چاہئے۔الغرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بے نظیر کامیابی اس بات کا ایک بین ثبوت ہے کہ آپ کی نصرت میں ایک طاقتور ہستی کام کر رہی تھی اور وہ وہی ہے جسے ہم خدا کہتے ہیں۔اور اب بھی جبکہ آپ کی وفات پر ساڑھے تیرہ سو سال گذر چکا ہے حلقہ چالیس کروڑ انسان آپ کی غلامی کو اپنے لئے فخر کا موجب سمجھتا ہے۔اور یہ دن بدن وسیع ہوتا جاتا ہے اور خدا کے فضل سے وہ وقت دور نہیں کہ عالم روحانی کا یہ بے مثل تاجدار اپنے حسنِ خدا داد سے تمام دنیا کے قلوب پر حکومت کریگا اور اسود واحمر کی گردنیں اس ظل اللہ کے سامنے محبت کی غلامی میں جھکیں گی۔اللهم صلّ عليه واله وسلّم وياايها الذين آمنوا صلّوا عليه وسلّموا تسليما۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فدا نفسی ) کے بعد آپ کے خادم اور ظلتِ کامل اور بروز جمالی حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی علیہ السلام کی ذاتِ والا صفات بھی اسی سلسلہ کی ایک مقدس کڑی ہے۔ایک گمنام ریل و تار سے دُور پردہ تاریکی میں مستور گاؤں کے اندر ایک بچہ پیدا ہوتا ہے۔ماں باپ کے سایہ کے نیچے وہ بڑھتا ہے مگر خلوت پسند طبیعت کی وجہ سے اپنے گاؤں کی محدود سوسائٹی سے بھی الگ الگ رہتا ہے۔باپ اپنی شفقت پدری کی وجہ سے کوشش کرتا ہے کہ کسی اچھی ملازمت پر اپنے اس بچہ کو فائز کر دے اور اُسے پیغام بھیجتا ہے کہ فلاں اعلیٰ افسر میرے ساتھ خاص دوستی کا تعلق رکھتا ہے اور وہ آجکل برسر اقتدار ہے چلو میں اُسے کہہ کر تمہارے واسطے معقول ملازمت کا انتظام کرا دیتا ہوں۔جواب آتا ہے کہ ” آپ میرے لئے فکر مند نہ ہوں میں نے جہاں نو کر ہونا تھا، ہو چکا ہوں۔یعنی میں خدا کی نوکری سے مشرف ہو چکا ہوں۔مجھے دُنیا کی نوکریوں کی ضرورت نہیں۔اور اب سے اس مقدس نوکری کی 141