ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 140 of 255

ہمارا خدا — Page 140

ایک اکیلا شخص غریب و ناتواں شخص کمزور و بے سروسامان شخص اٹھتا ہے اور چند سال کے عرصہ میں ملک کی کایا پلٹ کر رکھ دیتا ہے اور ملک بھی وہ جو سر سے لیکر ایڑی تک اس کے خلاف ہتھیار بند تھا۔کیا یہ تلوار کا کھیل ہے یا خُدائے غیور کی قدرت نمائی کا کرشمہ؟ نادانو تلوار کس نے اُٹھائی؟ کیا تم میں سے کوئی ہے جو یہ ثابت کر سکے کہ تلوار کے اُٹھانے میں مسلمانوں نے ابتداء کی تھی ؟ پھر کیا تم میں سے کوئی ہے جو یہ ثابت کر سکے کہ جب مسلمانوں نے خود حفاظتی اور قیام امن کے لئے تلوار اٹھائی تو اُس وقت بھی انہوں نے کسی ایک فرد واحد کو تلوار سے ڈراگر مسلمان بنایا ہو؟ اے تاریکی کے بدقسمت فرزند و! میں تمہیں کس طرح یہ یقین دلاؤں کہ عرب نے خود مسلمانوں کے خلاف تلوار اُٹھائی اور اُس نے صرف اس وقت اپنی تلوار واپس اپنی نیام میں ڈالی جب اُس نے یہ سمجھ لیا کہ محمد صلعم کے پیچھے کسی ایسی طاقتور ہستی کا ہاتھ ہے جس کے سامنے دُنیا کے ساز وسامان ایک پر پیشہ کی بھی حقیقت نہیں رکھتے۔پس بیشک انہوں نے ڈر کر اسلام قبول کیا لیکن تلوار سے ڈر کر نہیں بلکہ خُدا سے ڈر کر۔اور بے شک انہوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے بتوں کو توڑا لیکن مسلمانوں کی طاقت کا خوف کھا کر نہیں بلکہ خود ان بتوں کو ذلیل اور بے بس پا کر۔چنانچہ تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ جب فتح مکہ کے موقعہ پر مشرکوں کے بت توڑے گئے تو مکہ کے بعض رئیس اُن بتوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہوئے کہتے تھے کہ:۔اگر ان بتوں میں کچھ بھی طاقت ہوتی تو آج عرب کی متکبر گردنیں محمد کے سامنے نہ جھکتیں وہ لوگ جن کے ساتھ یہ ساری کہانی گذری ہے خود اپنے منہ سے تو یہ کہیں اور تم تیرہ سوسال بعد آنے والے عرب کے ملک سے ہزاروں میل پر رہتے ہوئے اسلامی تاريخ الخميس 140