ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 14 of 255

ہمارا خدا — Page 14

کر دیا ہو۔میرے اس دعوئی پر اگر کوئی دلیل مانگے تو میں بفضلہ تعالیٰ ایسے دلائل پیش کر سکتا ہوں جن سے کسی عقلمند غیر متعصب شخص کو انکار نہیں ہوسکتا، لیکن اس جگہ میں اس بات میں شک کرنے والوں سے صرف یہ سوال کرنا چاہتا ہوں کہ کیا وہ اپنے دل کی حالت کا مطالعہ کر کے اور اپنے گردو پیش کے لوگوں کے حالات کو دیکھ کر دیانتداری کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اور ان کے ملنے والے دوسرے لوگ خدا پر واقعی ایمان رکھتے ہیں؟ ایمان سے میری مُراد رسمی سنا سنایا ورثہ کا ایمان نہیں بلکہ زندہ حقیقی ایمان مُراد ہے۔کیا خدا کی ہستی اُن کے لئے ایسی ہی محسوس و مشہور ہے جیسے دنیا کی مادی چیز میں اُن کے لئے محسوس و مشہور ہیں؟ یعنی کیا خدا کے متعلق وہ ایسا ایمان رکھتے ہیں جیسا کہ مثلاً انہیں یہ ایمان ہے کہ یہ سورج ہے اور یہ چاند ہے اور یہ پہاڑ ہے اور یہ دریا ہے اور یہ ہمارا امکان ہے اور یہ ہمارا باپ ہے اور یہ ہمارا دوست ہے؟ اگر ایسا نہیں تو پھر خوب سمجھ لو کہ یہ کوئی ایمان نہیں ہے بلکہ محض ایک شک کا مقام ہے اور تم ایک مُردہ اور متعفن لاش کو زندوں کی طرح چھاتی سے لگائے بیٹھے ہو۔اور اگر یہ کہو کہ یہ مرتبہ ایمان کا جو اس جگہ بیان کیا گیا ہے یہ تو انتہائی مرتبہ ایمان کا ہے جس تک پہنچنے والے بہت ہی کم لوگ ہوتے ہیں اور صرف خاص خاص لوگوں کو ہی یہ مقام حاصل ہوتا ہے تو میں یہ کہوں گا کہ یہ بات تمہاری ناواقفی کا ایک مزید ثبوت ہے کیونکہ ایمان کا انتہائی مرتبہ تو وہ ہے جس کی ہوا بھی ابھی تم تک نہیں پہنچی اور شاید تم میں سے اکثر لوگ اس کا نقشہ بھی اپنے ذہن میں نہیں لا سکتے اور یہ مرتبہ ایمان کا جواو پر بیان کیا گیا ہے یعنی خدا کے متعلق ایسا ایمان ہونا جیسا کہ اس دُنیا کی مادی چیزوں کے متعلق انسان کو حاصل ہوتا ہے یہ ایمان کے درمیانی مراتب میں سے ایک مرتبہ ہے۔کیا تم نے حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ قول نہیں پڑھا جس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان کے عام مراتب میں سے ایک مرتبہ یہ ہے کہ انسان آگ میں ڈالا جا کر 14