ہمارا خدا — Page 13
اس زمانہ میں ایمان باللہ کی حالت سب سے پہلے میں اس جگہ اس حد درجہ قابلِ افسوس اور نہایت درد ناک حالت کا اظہار کرنا چاہتا ہوں جو اس زمانہ میں ایمان باللہ کے متعلق لوگوں میں عام طور پر پائی جاتی ہے۔کہنے کو تو جتنے مذاہب بھی دنیا میں موجود ہیں وہ سب خدا کے قائل ہیں اور ان مذاہب کی طرف منسوب ہونے والے لوگ بھی باستثناء ایک نہایت قلیل تعداد کے جو ہستی باری تعالیٰ کی برملا منکر ہے خدا پر ایمان لانے کے مدعی ہیں لیکن اگر نظر غور سے دیکھا جائے اور لوگوں کی ایمانی حالت کا گہرا مطالعہ کیا جائے تو صاف ظاہر ہو جاتا ہے کہ یہ ایمان ایک محض رسمی ایمان ہے جسے حقیقت سے ذرہ بھر بھی تعلق نہیں۔چونکہ لوگوں کا مذہب انہیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ تمہارا ایک خدا ہے اور وہ اپنے باپ دادوں سے بھی یہی سنتے چلے آئے ہیں کہ ہمارا ایک خدا ہے اور وہ یہ بھی محسوس کرتے ہیں کہ قومی شیرازے کو منتشر ہونے سے بچانے کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ ظاہری طور پر اپنے مذہب کے بنیادی اصول پر قائم رہیں اور پھر ان کے دلوں میں گاہے گا ہے یہ فطری آواز بھی اُٹھتی رہتی ہے کہ ممکن ہے واقعی ہمارا کوئی خدا ہو اس لئے وہ انکار کی جرات نہیں کرتے اور ظاہراً اسی عقیدہ پر قائم ہیں کہ اُن کا ایک خُدا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ خدا کے قائل نہیں اور اُن کے دل ایمان سے اُسی طرح خالی ہیں جس طرح ایک اُجڑا ہوا مکان مکین سے خالی ہوتا ہے۔میں یہ بات کسی خاص قوم کے افراد یا کسی خاص مذہب کے متبعین کے متعلق نہیں کہتا بلکہ تمام مذاہب اور تمام دنیا کے متعلق کہتا ہوں کیونکہ میں دیکھتا ہوں کہ تمام مذاہب کے متبعین یعنی زرتشتی۔بڑھ۔ہندو۔یہودی۔عیسائی۔سکھ۔مسلمان وغیرہ سب میں یہ زہر جسے بے ایمانی کا زہر کہنا چاہیے کم و بیش سرایت کر چکا ہے اور مادیت کی گرم اور شرر بار ہواؤں نے دنیا کا کوئی چمنستانِ ایمان نہیں چھوڑا کہ اسے جلا کر خاک نہ 13