ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 137 of 255

ہمارا خدا — Page 137

امیہ پھر اُن سے پوچھتا کہ بلال ! اب بتا کیا کہتا ہے؟ بلال کے منہ سے پھر وہی آواز نکلتی کہ احد - احد یعنی ” خدا ایک ہے خدا ایک ہے۔اور ظالم لڑکے پھر اُمیہ کا اشارہ پا کر اُن کو گرم پتھروں پر گھسیٹنا شروع کر دیتے۔ایک اور مسلمان تھے جن کا نام خباب تھا۔یہ غلام نہ تھے بلکہ آزاد تھے اور مکہ میں لوہاری کی دوکان کرتے تھے۔قریش کے شریر نو جوانوں نے غصہ میں آکر اُن کو اُن کی بھٹی کے دہکتے ہوئے کوئلوں کے اوپر لٹا دیا اور ایک شخص ان کی چھاتی پر چڑھ بیٹھا تا کہ وہ کروٹ نہ بدل سکیں حتی کہ وہ کو نئے اسی طرح جل جل کر اُن کی پیٹھ کے نیچے ٹھنڈے ہو گئے مگر اس وفادار بندہ نے خدا کا دامن نہ چھوڑا۔سمیہ ایک غریب مسلمان عورت تھی۔ابوجہل نے ان پر زور ڈالا کہ اسلام سے تو بہ کر لو ورنہ سخت عذاب دے دے کر مار دونگا مگر اُس خدا کی بندی نے نہ مانا اور اسلام پر قائم رہی۔آخر اس بد باطن نے ان کی شرمگاہ میں نیزہ مار کر انہیں مکہ کے پتے ہوئے میدان میں شہید کر دیا۔یہ اس مذہبی جنگ کے ابتدائی کارناموں کی چند مثالیں ہیں جو قریش مکہ کی طرف سے غریب اور بیکس مسلمانوں کے خلاف وقوع میں آئے۔خود مسلمانوں کے آقا اور سردار فداہ نفسی ) پر طائف کے شریر لوگوں نے پتھر برساد یئے کشتی کہ آپ کا بدن سر سے لیکر پاؤں تک زخموں سے چھلنی ہو گیا اور آپ کے خون سے آپ کی جوتیاں بھر گئیں اور خود مکہ کے اندر آپ کا بائیکاٹ کر کے آپ کو ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی۔آخر جب یہ مظالم انتہا کو پہنچ گئے اور بالآ خر قریش نے یہ فیصلہ کر لیا کہ خواہ کچھ ہو محمد صلعم کو جان سے ماردینا چاہئے تا کہ اس سلسلہ کا خاتمہ ہوتو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معہ اپنے چند ساتھیوں کے مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے تا کہ شائد اسی طرح قریش کا غصہ فرو ہو جائے اور وہ مسلمانوں کو امن کے ساتھ زندگی بسر کرنے دیں اور اُن کی پُر امن تبلیغ میں روک نہ ہو۔مگر اس بات نے قریش کی آتش غضب کو اور بھی بھڑ کا دیا اور اُن کے رُؤ سانے سارے ملک میں چکر لگا لگا کر تمام 137