ہمارا خدا — Page 121
اب اس اصل کے ماتحت ہم سوال زیر بحث پر نظر ڈالتے ہیں تو ایمان باللہ کا عقیدہ ایک ایسا عقیدہ ثابت ہوتا ہے جس سے کسی عقلمند انسان کو انکار نہیں ہوسکتا۔دنیا ں جتنی بھی تو میں آباد ہیں خواہ وہ بڑی ہیں یا چھوٹی، متمدن ہیں یا غیر متمدن، تعلیم یافتہ ہیں یا جاہل۔غرض جتنی بھی قومیں ہیں اور جہاں بھی ہیں وہ باوجود اپنے بے شمار اختلافات کے اس بات میں متفق ہیں کہ دُنیا و مافیها خود بخود اپنے آپ سے نہیں ہے بلکہ اس کا کوئی خالق و مالک ہے اور یہ خیال صرف اس زمانہ کی اقوام تک ہی محدود نہیں بلکہ جس جس زمانہ کی بھی تاریخ ہمارے سامنے محفوظ ہے اس میں بلا استثناء یہی منظر نظر آتا ہے کہ کوئی قوم بھی اس عقیدہ سے خالی نہیں کہ یہ دنیا کسی بالا ہستی کی مخلوق مملوک ہے۔اس بالا ہستی کی صفات میں اختلاف ہے اور کافی اختلاف ہے۔کوئی قوم خدا کو کسی صورت اور کسی شکل میں پیش کرتی ہے تو کوئی کسی میں۔پھر کوئی قوم خدا کو ایک مانتی ہے اور اس کے نیچے یا اوپر کسی دوسرے معبود کی قائل نہیں تو کسی نے بہت سے بڑے اور چھوٹے معبود بنا رکھے ہیں اور ان سب کے سامنے کم و بیش عبودیت کا خراج پیش کرنے پر مصر ہے۔غرض خدا کی ذات وصفات کے متعلق مختلف اقوام میں بہت بڑا اختلاف پایا جاتا ہے۔لیکن باوجود اس اختلاف کے تمام اقوام کے دین و مذہب کا مرکزی نقطہ یہی نظر آتا ہے کہ یہ دنیا و مافیہا خود بخود نہیں بلکہ کسی بالا ہستی کی قدرت نمائی کا کرشمہ ہے۔کیا یہودی اور کیا عیسائی۔کیا ہندو اور کیا مسلمان۔کیا سکھ اور کیا پارسی۔کیا جینی اور کیا بدھ۔پھر کیا شمالی امریکہ کے ریڈ انڈین اور کیا جنوبی افریقہ کے ہاٹن ٹاٹ اور ز دلو۔کیا مغربی افریقہ کے حبشی اور کیا آسٹریلیا کے وحشی۔کیا منطقہ منجمدہ کے اسکیمو اور کیا نیوزی لینڈ کے میوری۔کیا ہندوستان کے گونڈ اور سنتھال اور کیا چین کے ٹوئی۔پھر اگر زمانہ کے لحاظ سے نظر ڈالیں تو کیا موجودہ زمانہ کی دُنیا اور کیا غیر تاریخی زمانہ کے لوگ۔کیا وسطی زمانہ کی اقوام اور کیا ابتدائی زمانہ کے قبائل۔غرض جس قوم اور جس زمانہ 121