ہمارا خدا — Page 113
حُسن و احسان اور اس وحید چشمہ حیات یعنی ذات باری تعالیٰ کا عکس اپنے اندر پیدا کرتا ہوا ابد الآباد کے لئے ہر قسم کے حسن و احسان کی بلند ترین چوٹیوں کی طرف چڑھتا چلا جائے۔خوب غور کرو کہ یہ نیکی بدی کا شعور جو ہر انسان کی فطرت میں مرکوز ہے اور یہ خفی نور قلب جس کا چشمہ ہر ابن آدم کے سینہ سے ابل ابل کر پھوٹ رہا ہے کبھی کسی اندھے اتفاق یا کسی غیر شعوری ارتقاء کا نتیجہ نہیں ہوسکتا بلکہ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ اس فطری جذبے کو پیدا کرنے والی ایک مدرک بالا رادہ ہستی ہے جس نے انسان کو اس غرض کے لئے پیدا کیا ہے کہ وہ اس فطری جذبے کو ترقی دیکر اعلیٰ انعامات کا وارث بنے۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ کوئی شخص جو ذرا بھی فکر و تدبر کا مادہ رکھتا ہے نیکی بدی کے اس فطری شعور کو جو ہر انسان میں پایا جاتا ہے اور جس کے ماتحت انسان سے ہمیشہ طبعی طور پر بعض نیک افعال سرزد ہوتے رہتے ہیں محض کسی اتفاقی قانون یا فطری ارتقاء کا نتیجہ قرار دے سکتا ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ دُنیا ایک مشین کی طرح ہے جس کے مختلف پُرزے اس مشین کی اندرونی صنعت کے ماتحت خود بخود اپنے اپنے حلقہ میں چلتے رہتے ہیں اور اس سے وہ یہ استدلال کرتے ہیں کہ خدا کوئی نہیں ہے۔ایسے لوگ دیانتداری کے ساتھ غور کریں کہ کیا یہ فطری شعور جس سے ہر انسان نیکی کے اختیار کرنے کی طرف رغبت محسوس کرتا ہے کسی اندھی میکانزم (Mechanism) کا نتیجہ ہوسکتا ہے؟ کیا کوئی ایسی مشین ہے یا ہوسکتی ہے جو خود بخود اپنی کسی اندرونی طاقت سے ایسے رنگ میں چلے کہ وہ غریب اور امیر - خوش بخت اور مصیبت زدہ۔جوان اور بوڑھے۔کمزور اور توانا۔یتیم اور غیر یتیم کے معاملہ میں فرق کرتی جائے۔مثلاً اگر آٹے کی مشین ہو تو ایک غریب یا مصیبت زدہ شخص یا بوڑھے یا کمزور شخص یا ایک یتیم بچہ کا آٹا زیادہ اچھا اور زیادہ جلدی پیس دے اور ایک امیر اور خوشحال اور جوان اور توانا اور زندہ والدین رکھنے والے بچہ کا 113