ہمارا خدا — Page 109
ہے اور اسی بالا ہستی کے سہارے پر قائم اور جاری ہے اور یہ بالا ہستی خود غیر مخلوق اور غیر مملوک ہے کیونکہ یہ وہ آخری نقطہ ہے جس پر تمام سلسلے ختم ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک لطیف نظم پر اس دلیل کی بحث کو ختم کرتا ہوں :۔کس قدر ظاہر ہے نُور اس مبداء الانوار کا بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا چاند کو کل دیکھ کر میں سخت بیکل ہو گیا کیونکہ کچھ کچھ تھا نشاں اس میں جمال یار کا اس بہارِ حسن کا دل میں ہمارے جوش مت کرو کچھ ذکر ہم ترک ہے یا تا تار کا ہے عجب جلوہ تری قدرت کا پیارے ہر طرف جس طرف دیکھیں وہی راہ ہے ترے دیدار کا چشمه خورشید میں موجیں تری مشہور ہیں ہر ستارے میں تماشہ ہے تیری چمکار کا ٹو نے خود رُوحوں پہ اپنے ہاتھ سے چھڑکا نمک اس سے ہے شورِ محبت عاشقان زار کا کیا عجب تو نے ہر اک ذرہ میں رکھے ہیں خواص کون پڑھ سکتا ہے سارا دفتر ان اسرار کا تیری قدرت کا کوئی بھی انتہا پاتا نہیں کس سے کھل سکتا ہے بیچ اس عقدہ دشوار کا ب رویوں میں ملاحت ہے ترے اس حُسن کی ہر گل و گلشن میں ہے رنگ اس تری گلزار کا 109