ہمارا خدا

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 105 of 255

ہمارا خدا — Page 105

خُدا کو مخلوق قرار دیں تو اس کی تمام وہ صفات باطل چلی جاتی ہیں جو اس کی خدائیت کے لئے بطور ستون کے ہیں اور خدا خدا نہیں رہتا۔پس یہ جہالت کا خیال ہے کہ چونکہ خدا کو غیر مخلوق ماننا پڑتا ہے اس لئے کیا حرج ہے کہ دُنیا کو ہی غیر مخلوق سمجھ لیا جائے۔دیکھو پانی بوجہ سیال ہونے کے جس برتن میں ڈالا جاتا ہے اس کی شکل اختیار کر لیتا ہے مگر کون عظمند ہے جو یہ کہے کہ اس میں کیا حرج ہے کہ پانی کی طرح پتھر کے متعلق بھی یہ سمجھ لیا جائے کہ وہ بھی جس برتن میں رکھا جاویگا اس کی شکل اختیار کر لیگا ؟ یہ نادانی اور جہالت کی باتیں ہیں جن کی طرف کوئی ہوش و حواس رکھنے والا انسان توجہ نہیں کر سکتا۔پس خدا غیر مخلوق ہے اس لئے کہ وہ مخلوق نہیں ہوسکتا۔یعنی اس کے لئے ناممکن ہے کہ وہ مخلوق ہو کیونکہ مخلوق ہونے سے وہ خدا نہیں رہتا ( جیسا کہ پتھر کے لئے یہ ناممکن ہے کہ وہ پانی کی طرح جس برتن میں ڈالا جائے اس کی شکل وصورت اختیار کر لیا کرے کیونکہ ایسا کرنے سے وہ پتھر نہیں رہتا ) مگر اس دُنیا کی کسی چیز کے لئے مخلوق ہونا اس کی کسی طبعی صفت کے خلاف نہیں ہے۔پس فرق ظاہر ہے۔اب تک میں نے صرف یہ بتایا ہے کہ دُنیا کی کوئی چیز ایسی نہیں جسے مخلوق قرار دینے سے اس کی کسی صفت کا انکار کرنا پڑے اور چونکہ عام اصول یہی ہے کہ جب تک کسی چیز کو مخلوق قرار دینے سے رستہ میں کوئی طبعی روک نہ ہوا سے مخلوق ماننا چاہیئے اس لئے ثابت ہوا کہ یہ دُنیا مخلوق ہے۔اب میں مختصر طور پر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ نہ صرف یہ کہ دُنیا کے مخلوق مانے جانے کے رستہ میں کوئی روک نہیں بلکہ دنیا کے حالات ایسے ہیں کہ وہ ہمیں مجبور کرتے ہیں کہ ہم اسے مخلوق قرار دیں۔مثلاً اول یہ کہ دنیا میں کثرت ہے۔یعنی دنیا کسی ایک چیز کا نام نہیں بلکہ بے شمار چیزوں کے مجموعہ کا نام ہے اور یہ عظیم الشان کثرت جس کے حصر پر انسان آج تک قادر نہیں ہو سکا اور نہ کبھی ہو سکے گا اس بات کا تقاضا کر رہی ہے کہ دنیا کا کوئی خالق و مالک 105