ہمارا خدا — Page 101
ہے تو وہ احد ہونا چاہئے یعنی وہ واحد و یکتا ہونا چاہئے اور اس کے مقابل میں کوئی ایسی ہستی موجود نہ ہونی چاہئے جو اس کی ہمسری کا دعوی کر سکے۔عقل ہمیں بتاتی ہے کہ اگر کوئی خدا ہے تو وہ اپنی تمام صفات میں مستقل اور آزاد ہونا چاہئے یعنی اُس کی تمام صفات اس کے اندر بالاستقلال پائی جانی چاہئیں اور ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ اس کی صفات کا قیام کسی دوسری ہستی کی مرضی پر موقوف ہو۔یہ چند صفات جو میں نے بطور مثال کے بیان کی ہیں ایسی صفات ہیں جو عقل کی رو سے اس ہستی میں پائی جانی ضروری ہیں جس کا نام ہم خدار کھتے ہیں کیونکہ نظام عالم کا قیام جس طرح کہ وہ چلتا چلا آیا ہے اور چل رہا ہے بغیر ان صفات کے محال ہے۔گویا یہ صفات اور اسی قسم کی دوسری صفات عرشِ الوہیت کے لئے بطورستون کے ہیں جن کے بغیر یہ عرش کسی صورت میں قائم نہیں رہ سکتا۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ اگر خدا کو مخلوق ما نہیں تو اس کی ان تمام صفات سے انکار کرنا پڑتا ہے اور ان صفات میں سے کوئی ایک صفت بھی ایسی نہیں جو خدا کو مخلوق مان کر اُس میں قائم رہ سکے۔مثلاً یہ ظاہر ہے کہ اگر خدا مخلوق ہے تو وہ قدیم نہیں ہوسکتا بلکہ اسے حادث ماننا پڑیگا۔اگر خدا مخلوق ہے تو وہ غیر فانی نہیں رہ سکتا بلکہ اُسے فانی ماننا پڑیگا۔اگر خدا مخلوق ہے تو وہ قائم بالذات نہیں رہ سکتا بلکہ اُسے اس ہستی کے سہارے پر قائم مانا پڑیگا جو اس کی خالق و مالک ہے۔اگر خدا مخلوق ہے تو وہ قادر مطلق نہیں رہ سکتا بلکہ اس کی قدرتوں کو محدود ماننا پڑیگا اور نیز اس بات کو تسلیم کرنا پڑیگا کہ وہ ہستی جو اس کی خالق و مالک ہے وہ جب اور جس طرح چاہے اس کے کاموں میں دخل انداز ہوسکتی ہے۔اگر خدا مخلوق ہے تو وہ احد نہیں مانا جاسکتا بلکہ اس بات کا امکان ماننا پڑیگا کہ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے خدا ہیں کیونکہ جو ہستی ایک خدا پیدا کر سکتی ہے کوئی وجہ نہیں کہ اس نے اپنی صفت خلق اور اقتدار وحکومت کی وسعت ثابت کرنے کے لئے بہت سے خدا نہ پیدا کئے ہوں۔اگر خدا مخلوق ہے تو وہ اپنی کسی صفت 101