ہمارا گھر ہماری جنت — Page 1
دنیا میں انسان مختلف رشتوں کے بندھن میں بندھا ہوا ہے جو تمام خدا تعالیٰ کے قائم کردہ ہیں۔صرف ایک رشتہ خدا تعالیٰ نے انسان کی اپنی ، والدین یا عزیز واقارب کی پسند یا نا پسند پر چھوڑا ہے اور وہ رشتہ ہے میاں بیوی کا۔جس طرح انسان دوسرے رشتوں کا پاس رکھتا ہے اس سے بڑھ کر چاہیے کہ اس رشتہ کا پاس رکھے کیونکہ یہ اس کا اپنا انتخاب ہے۔خدا تعالیٰ بھی قرآن پاک میں بار ہا اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ خاوند کو اپنی بیوی اور اس کے رشتہ داروں کے ساتھ مثالی سلوک رکھنا چاہیے چنانچہ فرمایا:۔عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ (النساء:20) ترجمہ : ''ان ( یعنی اپنی بیویوں) سے حسن سلوک سے پیش آؤ۔“ ہمارے معاشرے میں ایک غلط نہی ہے کہ مرد کو قرآن مجید میں قوام قرار دیا گیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ خاوند کا کام رعب ڈالنا ہی ہے۔جبکہ ہم آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رسول کریم ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام، صحابہ کرام اور خلفاء احمدیت کی زندگیوں پر نظر ڈالتے ہیں تو معاملہ واضح ہو جاتا ہے کہ قوام کا مطلب کیا ہے؟ قرآن مجید نے حقوق کے حوالے سے مرد اور عورت کو برابر قرار دیا ہے۔چنانچہ فرمایا:۔وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ (البقرة: 229) ترجمہ : ” جیسے مردوں کے عورتوں پر حقوق ہیں ویسے ہی عورتوں کے مردوں پر ہیں۔ہر انسان کی یہ شدید خواہش ہوتی ہے کہ اس کے گھر کا ماحول ہر اعتبار سے بہت اچھا ہو ، امن ،سکون اور محبت کا گہوارہ ہو۔دنیا میں ہر چیز حاصل کرنے کے لئے کچھ قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔پس اس خواہش کی تکمیل کے لئے بھی ضروری ہے کہ کچھ قیمت ادا کی جائے اور وہ قیمت ہے، جذبات کی قربانی، صبر و حوصلہ ، حسن ظن حسن سلوک، ادا ئیگی حقوق اور فرائض کی بجا آوری۔پس گھر میں جنت نظیر معاشرہ کے قیام کے لئے خاوند کی بحیثیت قوام زیادہ ذمہ داری 1