ہمارا گھر ہماری جنت — Page 44
خود ہی اس کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتے۔زندگی کے ہر پہلو پر جب میں نظر ڈالتی ہوں تو یہی محسوس کرتی ہوں کہ حضور اس کے لئے میری کسی نا کسی رنگ میں ضرور راہنمائی فرما گئے ہیں۔شروع شروع میں جب میں نے گھر والوں سے اور دیگر لوگوں سے ملنا جلنا شروع کیا تو حضور نے مجھے نصیحت فرمائی کہ دیکھو تکبر نہیں کرنا لیکن وقار سے رہنا (ماہنامہ مصباح جون جولائی 2008 صفحہ 62) عمولی تکلیف کا بہت زیادہ احساس حضرت سیدہ طاہرہ صدیقہ ناصر صاحبہ حضور کی محبتوں اور شفقتوں کا مزید تذکرہ ان الفاظ میں کرتی ہیں۔معمولی سی تکلیف اور دکھ کا بہت زیادہ احساس فرماتے اور خیال کرتے۔ایک دفعہ رات کے وقت بیٹھے ڈاک دیکھ رہے تھے۔میری طبیعت تھوڑی سی خراب ہوئی۔معدہ میں جلن تھی میں نے کوئی خاص پرواہ نہیں کی۔ایسے ہی بیٹھے بیٹھے ذکر کیا تو حضور فورا اٹھے اور مجھے ہو میو پیتھی دوا دی۔دس دس منٹ بعد تین خوراکیں دیں اور چہرے پر فکر کا تاثر تھوڑی تھوڑی دیر بعد دریافت فرماتے اب ٹھیک ہو۔میں حیران تھی نصف گھنٹے میں بالکل ٹھیک ہو گئی۔طبیعت میں حلم اور نرمی بہت تھی کسی کو روتا ہوا نہیں دیکھ سکتے تھے۔مجھ سے بھی فرماتے ”میں تمہاری آنکھ میں آنسو نہیں دیکھ سکتا۔مجھے ٹائفائیڈ کا ٹیکا لگوانا تھا۔کوئی خاص تکلیف والی بات تو نہ تھی لیکن آپ نے جس طرح خیال اور محبت سے خود بازو پکڑ کر ٹیکہ لگوایا وہ میرے لئے اس وقت باعث حیرت تھا اور اب اس کی یاد باعث فرحت ہے۔غرض یہ کہ آپ کی محبتوں اور شفقتوں کا تذکرہ کہاں تک کیا جائے۔زندگی کے ہر پہلو میں آپ صرف اس بات کا خیال رکھتے کہ ہر کام قرآن کریم کے حکموں کے مطابق ہو۔(ماہنامہ مصباح جون ، جولائی 2008ء صفحہ 62) ✰✰✰ 44