ہمارا گھر ہماری جنت — Page 8
اہلیہ کی دلداری حدیث میں آتا ہے کہ ایک حبشی عورت نے نذر مانی کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ سے بخیریت واپس تشریف لائے تو میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دف بجاؤں گی اور گاؤں گی۔اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی اور گانا شروع کیا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دوش مبارک پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی ٹھوڑی رکھ کر دیکھنے لگیں۔حضور بار بار حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھتے اما شبعت یعنی کیا تم سیر نہیں ہو ئیں ، کیا تم سیر نہیں ہوئیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں کہتی ابھی نہیں اور میں اس لئے نفی میں جواب دیتی تھی تا کہ میں دیکھ سکوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میری کتنی دلداری فرماتے ہیں۔عادلانہ فیصلہ (ترمزی ابواب المناقب مناقب عمر الله) ایک دفعہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کھیر یا حلوا بنایا جو حضرت سودہ کو پسند نہیں آیا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کھانے کے لئے اصرار کیا مگر وہ نہ مانیں۔حضرت عائشہ کو کیا سو بھی کہ وہ مالیدہ حضرت سودہ کے منہ پر لیپ کر دیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ کر محفوظ بھی ہوئے مگر یہ عادلانہ فیصلہ فرمایا کہ حضرت سودہ" کو بدلہ لینے کا پورا حق ہے اور یہ چاہیں تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے منہ پر وہی مالیدہ مل سکتی ہیں۔حضرت سودہ نے بدلہ لیتے ہوئے مالیدہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے منہ پرمل دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ کر مسکراتے رہے۔(مجمع الزوائد جلد 4 صفحہ 316 بیروت) 8