ہمارا گھر ہماری جنت — Page 7
بیوی کی دلجوئی کا ایک انداز حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک سفر میں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے دوڑ میں مقابلہ کیا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آگے بڑھ گئیں۔لیکن ایک اور موقع پر جب کہ وہ کچھ فربہ ہوگئی تھیں۔پھر دوڑ کا مقابلہ ہوا۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھ گئے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ! اس مقابلہ کا بدلہ اُتر گیا۔دعوت طعام میں شرکت (ابو داؤد كتاب الجهاد فى السبق على الرجل) ایک ایرانی باشندہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہمسایہ تھا، جو سالن بہت عمدہ پکا تا تھا۔اس نے ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا تیار کیا اور آپ کو دعوت دینے آیا۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی باری عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تھی۔وہ اس وقت پاس ہی تھیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ کیا یہ بھی ساتھ آجائیں۔اس نے غالبا تکلف اور زیادہ اہتمام کرنے کے اندیشے سے نفی میں جواب دیا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر میں بھی نہیں آتا۔تھوڑی دیر بعد وہ دوبارہ بلانے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا میری بیوی بھی ساتھ آئے گی۔اس نے پھر نفی میں جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت میں جانے سے معذرت کر دی۔وہ چلا گیا، تھوڑی دیر بعد پھر آ کر گھر آنے کی دعوت دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنا وہی سوال دہرایا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی آجائیں ؟ تو اس مرتبہ اس نے حامی بھر لی۔اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا دونوں اس ایرانی کے گھر تشریف لے گئے اور وہاں جا کر کھانا تناول فرمایا۔(مسلم کتاب الاشربه) 7