ہمارا آقا ﷺ

by Other Authors

Page 2 of 158

ہمارا آقا ﷺ — Page 2

ہمارا آقا ع 2 بڑے ارمانوں اور دعاؤں کے بعد بڑھاپے میں اولاد پیدا ہوئی تھی۔اُسے ایک ویرانے میں چھوڑ آنے کے معنی یہ تھے کہ وہ تڑپ تڑپ کر ہلاک ہو جائے۔بیوی بادشاہ مصر کی لڑکی تھی۔نہایت ناز و نعمت سے محلوں میں پلی ہوئی۔اُسے سنسان بیابان میں تنہا چھوڑ دینے کا مطلب یہ تھا کہ دو ہی دنوں میں اُس کا خاتمہ ہو جائے۔اگر چہ یہ خطرے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل میں گزرے مگر بیٹے کی محبت اور بیوی کی الفت پر خدا کا عشق غالب آیا۔پانی کا ایک مشکیزہ اور کچھ کھجوریں ساتھ لے کر حضرت ابراہیم علیہ السلام خدا کا حکم پورا کرنے کے لئے گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔شہزادی ہاجرہ اپنے معصوم بچے کو چھاتی سے چمٹائے ساتھ تھی۔چلتے چلتے جب یہ چھوٹا سا قافلہ اُس ویران وادی میں پہنچا جہاں آج شہر مکہ آباد ہے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام ٹھہر گئے۔مشکیزہ کو زمین پر رکھا۔کھجوروں کی تھیلی بیوی کے ہاتھ میں دی۔ننھے بچے کو آبدیدہ آنکھوں سے پیار کیا اور واپس مڑ گئے۔بیوی چلائی اور درد بھرے الفاظ میں کہنے لگی:۔" آپ کہاں جارہے ہیں؟ اور ہمیں کس پر چھوڑ چلے ؟ تھوڑی دیر میں کوئی بھیڑ یا آئے گا