ہمارا آقا ﷺ — Page 47
ہمارا آقاعل الله 47 انہوں نے اپنے سارے بیٹوں کوطلب کیا اور وہ سب آکر بیمار باپ کے سامنے بیٹھ گئے۔اب عبد المطلب اپنے پوتے سے مخاطب ہوئے اور کہنے لگے۔”میرے پیارے بیٹے ! میں نے جہاں تک میرے امکان میں تھا، تمہاری اچھی طرح پرورش کی اور ہر طرح تمہارے آرام کا خیال رکھا۔میری بڑی خواہش یہ ہے کہ تم دنیا میں نہایت مشہور انسان بنو اور تمام جہان تمہارے کارناموں کی تعریف کرے۔جب تم پیدا ہوئے تھے تو میں نے اسی خیال سے تمہارا نام محمد مہ رکھا تھا۔میری تمنا تھی کہ میں اپنی زندگی میں تمہارا عروج دیکھ لیتا ، مگر افسوس ! یہ خوشی میری تقدیر میں نہ تھی ، میں اب مرنے لگا ہوں اور اپنی اس آرزو کو اپنے ساتھ قبر میں لے جاؤں گا۔تمہارے سارے چا اس وقت تمہارے سامنے بیٹھے ہیں، میرے بعد تم جس کے ہاں رہنا چا ہو، اُس کے پاس چلے جاؤ ، آئندہ کے لیے وہی تمہارا نگران اور سر پرست ہوگا۔دادا کی یہ تقریر سُن کر پوتے کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے ، مگر چارہ کار کیا تھا، رقت بھرے دل کے ساتھ سارے چچاؤں کو دیکھا اور پھر ابو طالب کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے۔ابو طالب نے بڑی محبت کے ساتھ بھیج کو پیار کیا اور اپنی گود میں