ہمارا آقا ﷺ — Page 46
ہمارا آقاعل الله 46 (17) دادا کا انتقال عبد المطلب کے اگر چہ گیارہ بارہ لڑکے تھے مگر اُن کو سب سے زیادہ محبت اپنے معصوم اور یتیم پوتے سے تھی۔اپنے ساتھ کھلاتے ، اپنے ساتھ سلاتے اور ہر وقت اپنے ساتھ رکھتے تھے ، چونکہ قریش کے سردار اور نہایت با وقار بزرگ تھے۔اس لئے کعبہ کے اندر قالین بچھا کر بیٹھتے تھے اور کسی کی مجال نہ تھی کہ قالین پر اُن کے ساتھ بیٹھ سکے۔مگر ان کا یتیم پوتا قالین پر بلا تکلف دادا کے پاس جا بیٹھتا۔ایک آدھ مرتبہ کسی نے ٹو کا تو عبدالمطلب نے فرمایا:۔اسے کچھ نہ کہو، یہ تو میرے پاس ہی بیٹھے گا۔“ مگر افسوس ! دادا کی الفت و شفقت کا زیادہ مزہ پوتے کو اٹھانا نصیب نہ ہوا۔ابھی دو برس بھی نہ گزرے تھے کہ ان کو پیغام اجل آگیا۔جب سردار قریش نے دیکھا کہ اب مرنے لگا ہوں تو اُن کو یہ فکر ہوئی کہ میرے بعد اس معصوم بچے کا کیا بنے گا۔جس کی عمر ابھی صرف آٹھ سال کی ہے۔کہاں کہاں کی ٹھوکریں کھائے گا ؟ اور کس طرح اس بے چارگی کے عالم میں اپنی زندگی گزارے گا ؟ اس لیے انہوں نے چاہا کہ اپنے بیٹوں میں سے کسی کو اس کا سر پرست اور نگران مقرر کر دیں۔