ہمارا آقا ﷺ — Page 41
ہمارا آقا 41 پاکیزہ شکل وصورت اور لمبے لمبے چوغوں سے اُن کو بہت بزرگ اور نیک آدمی سمجھا ، مگر آہ وہ نہایت ظالم اور قصائی ثابت ہوئے انہوں نے آتے ہی ہمارے قریشی بھائی کو پکڑ لیا اور ایک لمبے چھرے سے اس کا پیٹ پھاڑ دیا۔ہم اتنا دیکھتے ہی سر پر پاؤں رکھ کر بھاگے کہ کہیں ہم کو بھی پکڑ کر ذبح نہ کر ڈالیں۔نہ معلوم ہمارے آنے کے بعد کیا معاملہ ہوا ؟ یہ روح فرسا خبر سُن کر حلیمہ کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اور اس کی پریشانی کی حد نہ رہی۔اُس وقت اُس کو اپنے پیروں کے نیچے سے زمین نکلتی ہوئی معلوم ہو رہی تھی۔اُفتاں و خیزاں میدان میں پہنچی۔وہاں صلى الله دیکھا تو اُس کا نتھا محمد می تے اکیلا کھڑا تھا۔حلیمہ نے دوڑ کر معصوم بچے کو چھاتی سے لگالیا۔پیشانی چومی اور۔کہنے لگی :۔”میرے پیارے بیٹے ! کیا بات ہوئی ؟“ بچے نے جو کچھ گزرا تھا حلیمہ کو سنادیا۔حلیمہ نے سوچا کہ نہ کہیں خون گرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔نہ پانی پڑا ہوا کہیں نظر آتا ہے۔نہ کہیں آدمیوں کے قدموں کے نشانات زمین پر معلوم ہوتے ہیں۔نہ جو چیز انہیں نے باہر نکال کر پھینکی تھی وہ موجود ہے۔نہ سینے پر کوئی زخم یا نشان ہے۔ہو نہ ہو کسی جن یا بھوت کا سایہ بچے پر ہو گیا ہے۔اگر کوئی واقعہ ہو گیا تو میں اُس کی ماں کو کیا منہ دکھاؤں گی؟