ہمارا آقا ﷺ — Page 29
ہمارا آقا ع گے۔یہ کہا اور اٹھ کر چلے آئے۔29 ایر بہہ نے فورا فوج کو تیاری کا حکم دیا اور مکہ پر حملہ کر دیا۔مگر فوراً ہی اس پر خدا کا غضب نازل ہوا اور اس کا سارالشکر بری طرح ہلاک ہو گیا۔مرنے والوں کی لاشوں سے سارا میدان بھر گیا اور کوئی ان کی لاشوں کو اٹھانے والا ہی نہ رہا۔قرآن کریم نے اس سارے واقعہ کو صرف چند لفظوں میں ایسی خوبی ، متانت اور عمدگی کے ساتھ بیان کیا ہے که فصاحت حیران رہ گئی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔أَلَمْ تَرَكَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الفِيْل اَلَمْ يَجْعَلُه كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيل وَ أَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْراً أَبابيل ٥ تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍ مِّنْ سِجِيلِهِ فَجَعَلَهُمْ كَعَصب ما گوله یعنی اے مخاطب ! کیا تو نے اس بات پر غور نہیں کیا کہ تیرے پروردگار نے اصحاب فیل کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ کیا اُس نے ان کے عزم و ارادہ کو خاک میں نہیں ملا دیا ؟ خدا نے ان پر ٹھنڈ کے جھنڈ پرندوں کے بھیجے جو اُن کو پتھر کی کنکریوں سے مارتے تھے۔پس کر دیا ان کو کھائے ہوئے بھوسہ کی مانند 66 سردار لشکر ابرہہ کو سب سے زیادہ سزا ملی یعنی اس کے جسم کی کھال