ہمارا آقا ﷺ

by Other Authors

Page 149 of 158

ہمارا آقا ﷺ — Page 149

ہمارا آقا عمال 149 کر عیسائی ہو گئے تھے۔یہ توریت، زبور اور انجیل کے عالم اور انبیاء گذشتہ کی پیشگوئیوں اور صحف سماوی کی تفسیروں سے بخوبی واقف تھے اور قریش میں بہت معزز حیثیت کے مالک تھے۔انہی کے پاس خدیجہ اپنے شوہر کو لے گئیں اور کہنے لگیں کہ ” بھائی! آج تمہارے اس بھتیجے کے ساتھ ایک بڑا عجیب واقعہ پیش آیا تم ذرا اسے انہی کی زبانی سنو اور پھر بتاؤ کہ کیا ہوا۔“ بوڑھے ورقہ نے کہا ”میاں سناؤ کیا قصہ ہوا؟“ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ”آج جب کہ میں غارِ حرا میں بیٹھا خدا کی دو یا د کر رہا تھا کہ میں نے ایک بہت عظیم الشان نورانی وجود کو دیکھا جو آسمان سے اتر کر آیا اور مجھے اپنے سینے سے لگا کر کہنے لگا کہ ” پڑھ اس کے بعد چند کھلے مجھے پڑھائے اور پھر فضائے آسمانی میں گم ہو گیا بس یہ واقعہ ہوا" ورقہ نے سارا قصہ غور سے سنا اور پھر پوچھنے لگا ” جو کلمات نورانی وجود نے تمہیں پڑھائے تھے وہ تم کو یاد ہیں؟" آنحضرت ﷺ نے جواب دیا ”ہاں خوب اچھی طرح یاد ہیں۔“ اس کے بعد حضور یا ہو نے وہ ساری آیات ورقہ کو سنائی جو فرشتہ نے غار میں آپ میلے کو پڑھائی تھیں۔ان آیات کو سن کر ورقہ کہنے لگا:۔