ہمارا آقا ﷺ — Page 144
ہمارا آقا ع 144 یہ سن کر جبریل آگے بڑھا۔آپ علیہ کو پکڑا اور سینے سے لگا لیا۔پھر چھوڑ کر کہا: ”اب پڑھو صلى الله ” آپ ﷺ کا وہی جواب تھا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔“ ’اب پڑھو روح القدس نے دوبارہ آپ ﷺ کو چھاتی سے لگا کر بھینچا اور کہا آپ ﷺ نے وہی جواب دیا جو پہلے دومرتبہ دے چکے تھے۔اس کے بعد خدا کے بھیجے ہوئے فرشتہ نے تیسری مرتبہ آپ علیہ کو اپنے سینے سے چمٹایا اور پھر چھوڑ کر کہا:۔اقْرَءُ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِى خَلَقَ ٥ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَءُ وَرَبُّكَ الأكْرَمُ الَّذِى عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ٥ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَالَمُ يَعْلَمُ 0 (یعنی اپنے رب کا نام لے کر پڑھ ، اُس رب کا نام جس نے تمام مخلوقات کو پیدا کیا اور انسان کو گوشت کے لوتھڑے سے بنایا۔تیرا پروردگار بڑی شان و عظمت والا ہے۔اُسی نے انسان کو قلم کے ذریعہ علم سکھایا اور اُسے وہ باتیں بتا ئیں جن کا اُسے بالکل پتہ نہ تھا ) آپ مکہ فرشتہ کے ساتھ ساتھ یہ الفاظ پڑھتے رہے اور اُس کے بعد فرشتہ غائب ہو گیا۔یہ تھی پہلی وحی جو خدائے ذوالجلال کی جانب سے سے ہمارے آقاﷺ پر نازل ہوئی۔