ہمارا آقا ﷺ — Page 140
ہمارا آقا عدل 140 زمیں پر خاک ، پتھر اور شجر معبود تھے اُن کے فلک پر انجم و شمس و قمر معبود تھے اُن کے مُرادیں مانگتے تھے ہر وجودِ بے حقیقت سے نہ تھا محروم کوئی، حجز خدا، اُن کی عبادت سے جب کفر کی تاریکی انتہا کو پہنچ گئی۔ہر طرف ضلالت کا اندھیرا چھا گیا اور ساری دنیا عناصر پرستی کے تباہ کن گڑھے میں جاپڑی۔تو خدائے ذو الجلال والاکرام نے چاہا کہ اس کی مخلوق اس ہولناک دلدل سے نکلے اور اس طاقت اور عظمت والے خدا کو پہچانے۔جو گل عالم کا حقیقی مالک اور خالق ہے۔پس اُس نے اپنے بندوں پر کمال رحم فرما کر رحمتہ اللعالمین ہے کو بھیجا۔جس نے آکر تاریکی اور ہر ظلمت کو دور کر دیا اور دنیا کو خدا کا چمکتا ہوا چہرہ پردہ اٹھا کر دکھا دیا ، جسے دیکھتے ہی سعید روحیں فورا سجدے میں گر پڑیں۔میرے ہادی! میرے رہنما ! میرے آقا ! تجھ پر کروڑ وں سلام، میرا جسم اور میری روح تجھ پر قربان ، تو نے پیدا ہو کر انسانیت کی لاج رکھ لی۔صلى الله