ہمارا آقا ﷺ

by Other Authors

Page 139 of 158

ہمارا آقا ﷺ — Page 139

ہمارا آقا 139 تھیں اور اُن کو اپنی قدیم تہذیب اور شائستگی پر فخر بھی تھا۔مگر دونوں ملکوں پر اصنام پرستی کی گہری گھٹا چھائی ہوئی تھی۔جہاں ہزاروں دیوتا صدیوں سے حکومت کر رہے تھے۔باقی کا سارا براعظم خونخوار بھیڑیوں اور وحشی درندوں سے بھرا ہوا تھا۔جو ہر طرف لوٹ مار کرتے پھرتے تھے۔بھٹوں اور غاروں میں رہتے اور انسان کی کھوپڑیوں میں شراب پیا کرتے تھے۔افریقہ میں صرف مصر ایسا ملک تھا۔جہاں تہذیب و تمدن کے کچھ آثار نظر آتے تھے، مگر وہ بھی دیوتاؤں کی سرزمین تھی اور خدا کو وہاں بھی کوئی نہ جانتا تھا۔امریکہ اور آسٹریلیا کے ممالک اُس وقت معدوم محض تھے اور کوئی بھی انہیں نہ جانتا تھا۔مختصر یہ کہ دنیا کے پردے پر اُس وقت کوئی ملک بھی ایسا نہ تھا جہاں بیشمار دیوتاؤں کی پوجا نہ ہوتی ہو۔جہاں گھر گھر بت رکھے ہوئے نہ ہوں اور جہاں ہر شخص کا معبود الگ نہ ہو۔خدائے واحد کی پرستش کہیں بھی ب تھی۔خدا کو قادر مطلق ، حتی و قیوم ، خالق و مالک اور واحد لاشریک سمجھنے والے اور خالص اُسی کی عبادت کرنے والے اُس وقت دنیا سے قطع نا پید تھے۔خدا کہتے تھے مٹی ، آگ ، پانی کو ، ہواؤں کو پہاڑوں اور دریاؤں کو ، بجلی کو ، گھٹاؤں کو