ہمارا آقا ﷺ — Page 137
ہمارا آقا عدل 137 اب مقتول کے رشتہ داروں کا فرض ہو جاتا تھا کہ وہ قاتل کو جہاں پا ئیں قصاص میں قتل کر ڈالیں۔جب وہ اُسے قتل کر ڈالتے تھے تو پھر اُس قتل ہونے والے کے سر میں سے ہامہ نکلتا تھا اور بیابانوں میں انتقام انتقام کی صدالگا تا پھرتا تھا۔جب اُس کے خاندان والے اُس کے بدلہ میں دوسرے قبیلے کے آدمی کو قتل کر دیتے تھے تو پھر اس کے سر سے اُتو پیدا ہوتا تھا اور وہ پہاڑوں کی چوٹیوں سے انتقام کی ہولناک آواز لگا تا تھا۔غرض اسی طرح ہر قتل ہونے والے کے سر میں سے ہامہ نکلتا رہتا تھا اور صحراؤں میں پھر کر انتقام کا نعرہ لگا تا رہتا تھا۔جس کا انتقام لے لیا جاتا تھا اس کا اُلو مر جاتا تھا اور جس کا قصاص نہیں لیا جاتا تھا یا نہیں لیا جاسکتا تھا اُس کا اُتو وادیوں میں مارا مارا پھرتا تھا اور انتقام انتقام پکارتا رہتا تھا۔اس اعتقاد کا نتیجہ یہ تھا کہ قتل در قتل کا ایک لامتناہی سلسلہ پھیلتا چلا جاتا تھا اور انتقام کی آگ ہر قبیلہ میں برابر روشن رہتی تھی۔جب کسی قبیلہ کے لوگوں کو بزدلی کا طعنہ دینا ہوتا تو کہا کرتے تھے کہ تم لوگ ہمارے سامنے کیا منہ لے کر بول سکتے ہو، تمہارے خاندان کے تو اتنے الو بھی ابھی تک ویرانوں میں پھر رہے ہیں، مطلب یہ ہے کہ تم اتنے بزدل ہو کہ اپنے مقتولوں کا انتقام بھی نہیں لے سکتے۔