ہمارا آقا ﷺ — Page 125
ہمارا آقا ع 125 جب اس طرح سے وہ لوگوں کو چیلنج دیتے تو پھر ان کو بھی غصہ آتا اور با ہم خوب سر پھٹول ، لڑائی جھگڑا اور دنگا فساد ہوتا۔بے حیائی اس درجہ بڑھی ہوئی تھی کہ بر ہنہ کعبہ طواف کرتے اور کہا کرتے تھے کہ جب ماں کے پیٹ سے بغیر کپڑوں کے پیدا ہوئے ہیں تو بر ہنہ طواف کرنے میں کیا ہرجہ ہے؟ بے شرمی کی انتہا یہ تھی کہ ایک عورت اکٹھے دس دس خاوند کر لیتی تھی اور جب چاہے اپنے سب شوہروں کو یا دو تین کو طلاق بھی دے دیتی تھی۔اسی طرح مرد بھی مختار تھے کہ جس قدر چاہیں بیویاں کر لیں۔چنانچہ غیلان بن سلمہ نامی ایک شخص کے دس بیویاں تھیں۔مرد اکثر اپنے دوستوں سے اپنی بیویاں بدل بھی لیا کرتے تھے۔ایک نہایت ہی شرم ناک رسم اُن میں یہ پھیلی ہوئی تھی کہ اگر باپ کی کئی بیویاں ہوتیں اور باپ کا انتقال ہو جاتا تو اپنی اصلی ماں کو چھوڑ کر سوتیلی ماؤں میں سے جس سے چاہتے نکاح کر لیتے۔دوسگی بہنوں سے بھی ایک ساتھ نکاح کر لینے میں کوئی ہرج نہ سمجھتے تھے۔جب کسی عورت کا خاوند مر جاتا تو وہ ایک سال تک عدت میں رہتی عدت گزارنے کی صورت نہایت عجیب و غریب تھی۔پرانے ، میلے اور بد بودار کپڑے پہن کر اپنے مکان کی سب سے تاریک کوٹھڑی میں